بِسْمِ ﷲِ وَصَلَّی ﷲُ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَاٰلِہٖ
وَأُفَوِّضُ أَمْرِیْ اِلَی ﷲِ، اِنَّ ﷲَ بَصِیْرٌ بِالْعِبَادِ
فَوَقَاہُ ﷲُ سَیِّئَاتِ مَا مَكَرُوْا
لَا اِلٰہَ اِلَّا ٲَنْتَ سُبْحَانَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ
فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ وَنَجَّیْنَاہُ مِنَ الْغَمِّ
وَكَذٰلِكَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِیْنَ
حَسْبُنَا ﷲُ وَنِعْمَ الْوَكیلُ
فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمۃٍ مِنَ ﷲِ وَفَضْلٍ لَمْ یَمْسَسْھُمْ سُوْءٌ
مَا شَا ءَ ﷲُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ
مَا شَاءَ ﷲُ لَا مَا شَاءَ النَّاسُ
مَا شَاءَ ﷲُ وَاِنْ كَرِہَ النَّاسُ
حَسْبِیَ الرَّبُّ مِنَ الْمَرْبُوْبِیْنَ
حَسْبِیَ الْخَالِقُ مِنَ الْمَخْلُوْقِیْنَ
حَسْبِیَ الرَّازِقُ مِنَ الْمَرْزُوْقِیْنَ
حَسْبِیَ ﷲُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ
حَسْبِیْ مَنْ ھُوَ حَسْبِیْ
حَسْبِیْ مَنْ لَمْ یَزَلْ حَسْبِیْ
حَسْبِیْ مَنْ كَانَ مُذْ كُنْتُ لَمْ یَزَلْ حَسْبِیْ
حَسْبِیَ ﷲُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ
عَلَیْہِ تَوَكَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ
تَوَكَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا
وَلَمْ یَكُنْ لَہٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ
وَلَمْ یَكُنْ لَہٗ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْہُ تَكْبِیْرًا
نوری، کتاب دار السلام میں اپنے استاد ملا فتح علی سلطان آبادی سے نقل کرتے ہیں کہ فاضل مقدس اخوند ملا محمد صادق عراقی بہت پریشانی، سختی اور بد حالی میں مبتلا تھے۔ انہیں اس تنگی سے چھٹکارے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ ایک وادی میں بہت بڑا خیمہ نصب ہے۔ جب پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ فریادیوں کے فریاد رس اور پریشان حال لوگوں کے سہارے، امام زمانہؑ ﴿عج﴾ کا خیمہ ہے۔ یہ سن کر جلدی سے حضرتؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اپنی بدحالی کا قصہ سنایا اور ان سے غم کے خاتمے اور کشائش کیلئے دعا کے خواستگار ہوئے۔ آنحضرتؑ نے ان کو اپنی اولاد میں سے ایک بزرگ کی طرف بھیجا اور ان کے خیمہ کی طرف اشارہ کیا۔ اخوند حضرتؑ کے خیمہ سے نکل کر اس بزرگ کے خیمہ میں پہنچے۔ مگر کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں سید محمد سلطان آبادی مصلائے عبادت پر بیٹھے دعا و قرأت میں مشغول ہیں۔ اخوند نے انہیں سلام کیا اور اپنی حالت زار بیان کی تو سید نے ان کو رفعِ مصائب اور وسعت رزق کی ایک دعا تعلیم فرمائی۔ وہ خواب سے بیدار ہوئے تو مذکورہ دعا انہیں ازبر ہو چکی تھی۔ اسی وقت سید کے گھر کا قصد کیا، حالانکہ ذہنی طور پر سید سے بے تعلق تھے اور ان کے ہاں آمدورفت نہ رکھتے تھے۔ اخوند جب سید کی خدمت میں پہنچے تو ان کو اسی حالت میں پایا جیسا کہ خواب میں دیکھا تھا۔ وہ مصلے پر بیٹھے اذکار و استغفار میں مشغول تھے۔ جب انہیں سلام کیا تو ہلکے سے تبسم کے ساتھ سلام کا جواب دیا، گویا وہ صورت حال سے واقف ہیں۔ اخوند نے ان سے دعا کی درخواست کی تو انہوں نے وہی دعا بتائی جو خواب میں تعلیم کر چکے تھے۔ اخوند نے وہ دعا پڑھنا شروع کر دی اور پھر چند ہی دنوں میں ہر طرف سے دنیا کی فراونی ہونے لگی۔ سختی اور بدحالی ختم ہوئی اور خوشحالی حاصل ہو گئی۔ ملا فتح علی سلطان آبادی سید موصوف کی تعریف کیا کرتے تھے کیونکہ آپ نے ان سے ملاقات کی بلکہ کچھ عرصہ ان کی شاگرد بھی رہے۔ سید نے خواب وبیداری میں حاج ملا فتح علی کو جو دعا تعلیم کی تھی اس میں یہ تین اعمال شامل ہیں:
﴿۱﴾ فجر کے بعد سینے پر ہاتھ رکھ کر ستر مرتبہ کہیں
:۔ یَا فَتَّاحُ ۔:
﴿۲﴾ پابندی سے الکافی میں مذکورہ دعا پڑھتے رہیں جس کی رسولؐ اللہ نے اپنے ایک پریشان حال صحابی کو تعلیم فرمائی تھی اور اس دعا کی برکت سے چند دنوں میں اس کی پریشانی دور ہو گئی۔ اور وہ دعا یہ ہے:
:۔ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ
تَوَكَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا
وَلَمْ یَكُنْ لَہٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ
وَلَمْ یَكُنْ لَہٗ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْہُ تَكْبِیْرًا ۔:
نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو اللہ سے ملتی ہے۔ میں نے اس زندہ اللہ پر توکل کیا جس کے لیے موت نہیں۔ اور حمد اس اللہ کے لیے ہے جس کی کوئی اولاد نہیں۔ اور نہ کوئی اس کی سلطنت میں اس کا شریک ہے۔ نہ اس کے عجز کی وجہ سے کوئی اس کا مددگار ہے، اور تم اس کی بڑائی بیان کیا کرو۔
﴿۳﴾ نماز فجر کے بعد شیخ ابن فہد سے نقل شدہ (مذکورہ بالا) دعا پڑھا کریں، اس کو غنیمت سمجھیں اور اس میں غفلت نہ کریں:
شیخ ابن فہد نے عدۃ الداعی میں امام رضاؑ سے نقل کیا ہے کہ جو شخص نماز صبح کے بعد یہ دعا پڑھے تو وہ جو بھی حاجت طلب کرے گا، خدا پوری فرمائے گا اور اس کی ہر مشکل آسان کر دے گا:
اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اللہ محمدؐ اور آل محمدؐ پر رحمت فرمائے۔ اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، بے شک اللہ بندوں کو دیکھتا ہے۔ پس اللہ اسے ان برائیوں سے بچائے جو لوگوں نے کیا۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، پاک ہے تیری ذات، بے شک میں ظالموں میں سے تھا۔ تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غم سے نجات دی۔ اور ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیتے ہیں۔ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور بہترین سرپرست ہے۔ پس وہ (مجاہد) اللہ کے فضل و کرم سے اس طرح لوٹے کہ انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچی۔ جو اللہ چاہے وہ ہوگا، کوئی طاقت و قوت نہیں مگر وہ جو اللہ سے ملتی ہے۔ جو اللہ چاہے وہ ہوگا، نہ وہ جو لوگ چاہیں۔ اور جو اللہ چاہے وہ ہوگا اگرچہ لوگوں کو ناگوار ہو۔ میرے لیے پالنے والوں کی بجائے پالنے والا کافی ہے۔ میرے لیے مخلوق کی بجائے خالق کافی ہے۔ میرے لیے رزق پانے والوں کی بجائے رزق دینے والا کافی ہے۔ جہانوں کا پالنے والا اللہ میرے لیے کافی ہے۔ وہ جو میرے لیے کافی ہے، وہی میرے لیے کافی ہے۔ جو ہمیشہ سے کافی رہا، وہ میرے لیے کافی ہے۔ جو کافی ہے، میں جب سے ہوں اور ہمیشہ کافی رہے گا۔ میرے لیے اللہ کافی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور وہی عظیم عرش کا مالک ہے۔