یہ امیر المؤمنینؑ امام علیؑ کی دعائے لیلۃ المبیت ہے اور ہر صبح وشام پڑھی جاتی ہے۔
ٲَصْبَحْتُ اَللّٰھُمَّ مُعْتَصِمًا بِذِمَامِكَ الْمَنِیْعِ
الَّذِیْ لَا یُطَاوَلُ وَلَا یُحَاوَلُ
مِنْ شَرِّ كُلِّ غَاشِمٍ وَطَارِقٍ
مِنْ سَائِرِ مَنْ خَلَقْتَ وَمَا خَلَقْتَ
مِنْ خَلْقِكَ الصَّامِتِ وَالنَّاطِقِ
فِیْ جُنَّۃٍ مِنْ كُلِّ مَخُوْفٍ
بِلِبَاسٍ سَابِغَۃٍ وَلَاءِ ٲَھْلِ بَیْتِ نَبِیِّكَ
مُحْتَجِبًا مِنْ كُلِّ قَاصِدٍ لِیْ اِلٰی ٲَذِیَّۃٍ بِجِدَارٍ حَصِیْنِ الْاِخْلَاصِ
فِی الْاِعْتِرَافِ بِحَقِّھِمْ وَالتَّمَسُّكِ بِحَبْلِھِمْ
مُوْقِنًا ٲَنَّ الْحَقَّ لَھُمْ وَمَعَھُمْ وَفِیْھِمْ وَبِھِمْ
ٲُوَالِیْ مَنْ وَالَوْا، وَٲُجَانِبُ مَنْ جَانَبُوْا
فَٲَعِذْنِیْ اَللّٰھُمَّ بِھِمْ مِنْ شَرِّ كُلِّ مَا ٲَتَّقِیْہِ
یَا عَظِیْمُ حَجَزْتُ الْاَعَادِیَ عَنِّیْ بِبَدِیْعِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ
اِنَّا جَعَلْنَا مِنْ بَیْنِ ٲَیْدِیْھِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِھِمْ سَدًّا
فَٲَغْشَیْنَاھُمْ فَھُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ
یہ امیر المؤمنینؑ امام علیؑ کی دعائے لیلۃ المبیت ہے اور ہر صبح وشام پڑھی جاتی ہے۔
اے معبود! میں نے تیری عظیم نگہبانی میں صبح دیکھی ہے۔
جس تک کسی کا ہاتھ نہیں پہنچتا اور نہ کوئی اس پر قابو پا سکتا ہے۔
ہر ظالم اور آنے والے کے شر سے (تیری پناہ میں آتا ہوں)۔
تیری تمام مخلوق کے شر سے، جو تو نے پیدا کی ہے۔
چاہے وہ بولنے والی ہو یا خاموش۔
ہر خوف سے تیری پناہ میں ہوں۔
میں تیرے نبیؐ کے اہلِ بیتؑ کی محبت کے مضبوط لباس میں ہوں۔
اور ہر اس شخص سے چھپا ہوا ہوں جو مجھے نقصان پہنچانا چاہتا ہے، اخلاص کی مضبوط دیوار کے ذریعے۔
انؑ کے حق کو مانتے ہوئے اور انؑ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے۔
یقین رکھتا ہوں کہ حق انہیؑ کے ساتھ، انہیؑ میں اور انہیؑ کے ذریعے ہے۔
جو انؑ سے محبت کرے میں اس سے محبت کرتا ہوں، اور جو انؑ سے دور ہو میں اس سے دور ہوں۔
پس اے اللہ! انؑ کے وسیلے سے مجھے ہر اس شر سے محفوظ رکھ جس سے میں ڈرتا ہوں۔
اے عظمت والے! آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے واسطے سے دشمنوں کو مجھ سے دور رکھ۔
بے شک ہم نے ان کے آگے ایک دیوار اور ان کے پیچھے ایک دیوار بنا دی۔
پھر ہم نے انہیں ڈھانپ دیا، پس وہ دیکھ نہیں سکتے۔