بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Bismi-llāhi r-raḥmāni r-raḥīm
اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا ہے
اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ ٱلَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ
Allāhumma innī as’aluka biraḥmatika llatī wasiʿat kulla shay’
اے اللہ! میں تجھ سے تیری اُس رحمت کے واسطے سوال کرتا ہوں جو ہر چیز پر محیط ہے
وَبِقُوَّتِكَ ٱلَّتِي قَهَرْتَ بِهَا كُلَّ شَيْءٍ
Wa biquwwatika llatī qaharta bihā kulla shay’
اور تیری اُس قوت کے واسطے جس سے تو نے ہر چیز کو مغلوب کیا
وَخَضَعَ لَهَا كُلُّ شَيْءٍ
Wa khaḍaʿa lahā kullu shay’
اور جس کے آگے ہر چیز جھک گئی
وَذَلَّ لَهَا كُلُّ شَيْءٍ
Wa dhalla lahā kullu shay’
اور جس کے سامنے ہر چیز عاجز ہو گئی
وَبِجَبَرُوتِكَ ٱلَّتِي غَلَبْتَ بِهَا كُلَّ شَيْءٍ
Wa bijabarūtika llatī ghalabta bihā kulla shay’
اور تیرے اُس جبروت کے واسطے جس سے تو نے ہر چیز پر غلبہ پایا
وَبِعِزَّتِكَ ٱلَّتِي لَا يَقُومُ لَهَا شَيْءٌ
Wa biʿizzatika llatī lā yaqūmu lahā shay’
اور تیری اُس عزت کے واسطے جس کے سامنے کوئی چیز ٹھہر نہیں سکتی
وَبِعَظَمَتِكَ ٱلَّتِي مَلَأَتْ كُلَّ شَيْءٍ
Wa biʿaẓamatika llatī mala’at kulla shay’
اور تیری اُس عظمت کے واسطے جس نے ہر چیز کو بھر دیا
وَبِسُلْطَانِكَ ٱلَّذِي عَلَا كُلَّ شَيْءٍ
Wa bisulṭānika lladhī ʿalā kulla shay’
اور تیرے اُس اقتدار کے واسطے جو ہر چیز پر بلند ہے
وَبِوَجْهِكَ ٱلْبَاقِي بَعْدَ فَنَاءِ كُلِّ شَيْءٍ
Wa biwajhika l-bāqī baʿda fanā’i kulli shay’
اور تیری اُس ذات کے واسطے جو ہر چیز کے فنا ہو جانے کے بعد باقی رہنے والی ہے
وَبِأَسْمَائِكَ ٱلَّتِي مَلَأَتْ أَرْكَانَ كُلِّ شَيْءٍ
Wa bi’asmā’ika llatī mala’at arkāna kulli shay’
اور تیرے اُن ناموں کے واسطے جنہوں نے ہر چیز کے ارکان کو بھر دیا
وَبِعِلْمِكَ ٱلَّذِي أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ
Wa biʿilmika lladhī aḥāṭa bikulli shay’
اور تیرے اُس علم کے واسطے جو ہر چیز پر محیط ہے
وَبِنُورِ وَجْهِكَ ٱلَّذِي أَضَاءَ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ
Wa binūri wajhika lladhī aḍā’a lahu kullu shay’
اور تیرے چہرے کے اُس نور کے واسطے جس سے ہر چیز روشن ہو گئی
يَا نُورُ يَا قُدُّوسُ
Yā nūru yā quddūs
اے نور! اے پاکیزہ ترین!
يَا أَوَّلَ ٱلْأَوَّلِينَ
Yā awwala l-awwalīn
اے سب اولوں سے پہلے
وَيَا آخِرَ ٱلْآخِرِينَ
Wa yā ākhira l-ākhirīn
اور اے سب آخروں کے بعد آخر
اَللَّهُمَّ ٱغْفِرْ لِيَ ٱلذُّنُوبَ ٱلَّتِي تَهْتِكُ ٱلْعِصَمَ
Allāhumma-ghfir liya dh-dhunūba llatī tahtiku l-ʿiṣam
اے اللہ! مجھے وہ گناہ بخش دے جو حفاظتوں کو چاک کر دیتے ہیں
اَللَّهُمَّ ٱغْفِرْ لِيَ ٱلذُّنُوبَ ٱلَّتِي تُنْزِلُ ٱلنِّقَمَ
Allāhumma-ghfir liya dh-dhunūba llatī tunzilu n-niqam
اے اللہ! مجھے وہ گناہ بخش دے جو عذاب نازل کرتے ہیں
اَللَّهُمَّ ٱغْفِرْ لِيَ ٱلذُّنُوبَ ٱلَّتِي تُغَيِّرُ ٱلنِّعَمَ
Allāhumma-ghfir liya dh-dhunūba llatī tughayyiru n-niʿam
اے اللہ! مجھے وہ گناہ بخش دے جو نعمتوں کو بدل دیتے ہیں
اَللَّهُمَّ ٱغْفِرْ لِيَ ٱلذُّنُوبَ ٱلَّتِي تَحْبِسُ ٱلدُّعَاءَ
Allāhumma-ghfir liya dh-dhunūba llatī taḥbisu d-duʿā’
اے اللہ! مجھے وہ گناہ بخش دے جو دعا کو روک دیتے ہیں
اَللَّهُمَّ ٱغْفِرْ لِيَ ٱلذُّنُوبَ ٱلَّتِي تَقْطَعُ ٱلرَّجَاءَ
Allāhumma-ghfir liya dh-dhunūba llatī taqṭaʿu r-rajā’
اے اللہ! مجھے وہ گناہ بخش دے جو امیدوں کو کاٹ دیتے ہیں
اَللَّهُمَّ ٱغْفِرْ لِيَ ٱلذُّنُوبَ ٱلَّتِي تُنْزِلُ ٱلْبَلَاءَ
Allāhumma-ghfir liya dh-dhunūba llatī tunzilu l-balā’
اے اللہ! مجھے وہ گناہ بخش دے جو بلا نازل کرتے ہیں
اَللَّهُمَّ ٱغْفِرْ لِي كُلَّ ذَنْبٍ أَذْنَبْتُهُ وَكُلَّ خَطِيئَةٍ أَخْطَأْتُهَا
Allāhumma-ghfir lī kulla dhanbin adhnabtuhu wa kulla khaṭī’atin akhṭa’tuhā
اے اللہ! مجھے ہر وہ گناہ بخش دے جو میں نے کیا اور ہر وہ خطا جو مجھ سے سرزد ہوئی
اَللَّهُمَّ إِنِّي أَتَقَرَّبُ إِلَيْكَ بِذِكْرِكَ
Allāhumma innī ataqarrabu ilayka bidhikrik
اے اللہ! میں تیرے ذکر کے ذریعے تیرا قرب چاہتا ہوں
وَأَسْتَشْفِعُ بِكَ إِلَىٰ نَفْسِكَ
Wa astashfiʿu bika ilā nafsik
اور میں تجھی کو تیرے حضور سفارشی بناتا ہوں
وَأَسْأَلُكَ بِجُودِكَ أَنْ تُدْنِيَنِي مِنْ قُرْبِكَ
Wa as’aluka bijūdika an tudniyanī min qurbik
اور میں تیری سخاوت کے واسطے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے اپنے قرب سے نزدیک کر دے
وَأَنْ تُوزِعَنِي شُكْرَكَ
Wa an tūziʿanī shukrak
اور یہ کہ تو مجھے اپنے شکر کی توفیق عطا فرما
وَأَنْ تُلْهِمَنِي ذِكْرَكَ
Wa an tulhimanī dhikrak
اور یہ کہ تو مجھے اپنے ذکر کا الہام فرما
اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ سُؤَالَ خَاضِعٍ مُتَذَلِّلٍ خَاشِعٍ أَنْ تُسَامِحَنِي وَتَرْحَمَنِي
Allāhumma innī as’aluka su’āla khāḍiʿin mutadhallilin khāshiʿin an tusāmiḥanī wa tarḥamanī
اے اللہ! میں تجھ سے ایک عاجز، خاکسار اور خاشع بندے کی طرح سوال کرتا ہوں کہ تو مجھ سے درگزر فرما اور مجھ پر رحم کر
وَتَجْعَلَنِي بِقَسَمِكَ رَاضِياً قَانِعاً، وَفِي جَمِيعِ ٱلْأَحْوَالِ مُتَوَاضِعاً
Wa tajʿalanī biqasamika rāḍiyan qāniʿan, wa fī jamīʿi l-aḥwāli mutawāḍiʿan
اور مجھے اپنی تقسیم پر راضی اور قانع بنا، اور تمام حالات میں متواضع رکھ
اَللَّهُمَّ وَأَسْأَلُكَ سُؤَالَ مَنِ ٱشْتَدَّتْ فَاقَتُهُ
Allāhumma wa as’aluka su’āla mani-shtaddat fāqatuh
اے اللہ! اور میں تجھ سے اُس کی طرح سوال کرتا ہوں جس کی محتاجی شدید ہو گئی ہو
وَأَنْزَلَ بِكَ عِنْدَ ٱلشَّدَائِدِ حَاجَتَهُ
Wa anzala bika ʿinda sh-shadā’idi ḥājatah
اور جس نے سختیوں کے وقت اپنی حاجت تیرے سامنے رکھی
وَعَظُمَ فِيمَا عِنْدَكَ رَغْبَتُهُ
Wa ʿaẓuma fīmā ʿindaka raghbatuh
اور جو کچھ تیرے پاس ہے اُس میں جس کی رغبت بڑھ گئی
اَللَّهُمَّ عَظُمَ سُلْطَانُكَ وَعَلَا مَكَانُكَ
Allāhumma ʿaẓuma sulṭānuka wa ʿalā makānuk
اے اللہ! تیرا اقتدار عظیم ہے اور تیرا مقام بلند ہے
وَخَفِيَ مَكْرُكَ وَظَهَرَ أَمْرُكَ
Wa khafiya makruka wa ẓahara amruk
اور تیری تدبیر پوشیدہ ہے اور تیرا حکم ظاہر ہے
وَغَلَبَ قَهْرُكَ وَجَرَتْ قُدْرَتُكَ
Wa ghalaba qahruka wa jarat qudratuk
اور تیرا قہر غالب ہے اور تیری قدرت جاری ہے
وَلَا يُمْكِنُ ٱلْفِرَارُ مِنْ حُكُومَتِكَ
Wa lā yumkinu l-firāru min ḥukūmatik
اور تیری حکومت سے بھاگنا ممکن نہیں
اَللَّهُمَّ لَا أَجِدُ لِذُنُوبِي غَافِراً
Allāhumma lā ajidu lidhunūbī ghāfiran
اے اللہ! میں اپنے گناہوں کا کوئی بخشنے والا نہیں پاتا
وَلَا لِقَبَائِحِي سَاتِراً
Wa lā liqabā’iḥī sātiran
اور نہ اپنی بدیوں کا کوئی چھپانے والا
وَلَا لِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِيَ ٱلْقَبِيحِ بِٱلْحَسَنِ مُبَدِّلاً غَيْرَكَ
Wa lā lishay’in min ʿamaliya l-qabīḥi bil-ḥasani mubaddilan ghayrak
اور نہ اپنے کسی برے عمل کو نیکی سے بدلنے والا تیرے سوا کوئی
لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ
Lā ilāha illā ant
تیرے سوا کوئی معبود نہیں
سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ
Subḥānaka wa biḥamdik
تو پاک ہے اور تیری ہی حمد ہے
ظَلَمْتُ نَفْسِي
Ẓalamtu nafsī
میں نے اپنی جان پر ظلم کیا
وَتَجَرَّأْتُ بِجَهْلِي
Wa tajarra’tu bijahlī
اور اپنی جہالت کی وجہ سے جرأت کی
وَسَكَنْتُ إِلَىٰ قَدِيمِ ذِكْرِكَ لِي وَمَنِّكَ عَلَيَّ
Wa sakantu ilā qadīmi dhikrika lī wa mannika ʿalayy
اور میں نے تیرے دیرینہ ذکر اور اپنے اوپر تیرے احسان پر بھروسا کر لیا
اَللَّهُمَّ مَوْلَايَ
Allāhumma mawlāy
اے اللہ! اے میرے مولا!
كَمْ مِنْ قَبِيحٍ سَتَرْتَهُ
Kam min qabīḥin satartah
کتنی ہی برائیاں ہیں جو تو نے چھپا دیں!
وَكَمْ مِنْ فَادِحٍ مِنَ ٱلْبَلَاءِ أَقَلْتَهُ
Wa kam min fādiḥin mina l-balā’i aqaltah
اور کتنی ہی گراں بار بلائیں ہیں جو تو نے ٹال دیں!
وَكَمْ مِنْ عِثَارٍ وَقَيْتَهُ
Wa kam min ʿithārin waqaytah
اور کتنی ہی لغزشیں ہیں جن سے تو نے بچایا!
وَكَمْ مِنْ مَكْرُوهٍ دَفَعْتَهُ
Wa kam min makrūhin dafaʿtah
اور کتنی ہی ناگواریاں ہیں جو تو نے دور کیں!
وَكَمْ مِنْ ثَنَاءٍ جَمِيلٍ لَسْتُ أَهْلاً لَهُ نَشَرْتَهُ
Wa kam min thanā’in jamīlin lastu ahlan lahu nashartah
اور کتنی ہی خوبصورت تعریفیں ہیں جن کا میں اہل نہ تھا، تو نے پھیلا دیں!
اَللَّهُمَّ عَظُمَ بَلَائِي
Allāhumma ʿaẓuma balā’ī
اے اللہ! میری بلا بہت بڑی ہے
وَأَفْرَطَ بِي سُوءُ حَالِي
Wa afraṭa bī sū’u ḥālī
اور میری بدحالی حد سے بڑھ گئی
وَقَصُرَتْ بِي أَعْمَالِي
Wa qaṣurat bī aʿmālī
اور میرے اعمال کوتاہ پڑ گئے
وَقَعَدَتْ بِي أَغْلَالِي
Wa qaʿadat bī aghlālī
اور میری زنجیروں نے مجھے بٹھا دیا
وَحَبَسَنِي عَنْ نَفْعِي بُعْدُ آمَالِي
Wa ḥabasanī ʿan nafʿī buʿdu āmālī
اور میری دراز امیدوں نے مجھے میرے نفع سے روک دیا
وَخَدَعَتْنِي ٱلدُّنْيَا بِغُرُورِهَا وَنَفْسِي بِجِنَايَتِهَا وَمِطَالِي
Wa khadaʿatnī d-dunyā bighurūrihā wa nafsī bijināyatihā wa miṭālī
اور دنیا نے اپنے فریب سے، میرے نفس نے اپنی جنایت سے، اور میری ٹال مٹول نے مجھے دھوکہ دیا
يَا سَيِّدِي فَأَسْأَلُكَ بِعِزَّتِكَ أَنْ لَا يَحْجُبَ عَنْكَ دُعَائِي سُوءُ عَمَلِي وَفِعَالِي
Yā sayyidī fa as’aluka biʿizzatika an lā yaḥjuba ʿanka duʿā’ī sū’u ʿamalī wa fiʿālī
اے میرے آقا! پس میں تیری عزت کے واسطے سوال کرتا ہوں کہ میرے برے اعمال اور افعال میری دعا کو تجھ سے محجوب نہ کریں
وَلَا تَفْضَحَنِي بِخَفِيِّ مَا ٱطَّلَعْتَ عَلَيْهِ مِنْ سِرِّي
Wa lā tafḍaḥanī bikhafiyyi ma-ṭṭalaʿta ʿalayhi min sirrī
اور مجھے اُن پوشیدہ رازوں کے ذریعے رسوا نہ کر جن پر تو مطلع ہے
وَلَا تُعَاجِلْنِي بِٱلْعُقُوبَةِ عَلَىٰ مَا عَمِلْتُهُ فِي خَلَوَاتِي
Wa lā tuʿājilnī bil-ʿuqūbati ʿalā mā ʿamiltuhu fī khalawātī
اور جو کچھ میں نے تنہائیوں میں کیا اُس پر مجھے جلد سزا نہ دے
مِنْ سُوءِ فِعْلِي وَإِسَاءَتِي
Min sū’i fiʿlī wa isā’atī
یعنی میرے برے کاموں اور میری بدسلوکی پر
وَدَوَامِ تَفْرِيطِي وَجَهَالَتِي
Wa dawāmi tafrīṭī wa jahālatī
اور میری مسلسل کوتاہی اور جہالت پر
وَكَثْرَةِ شَهَوَاتِي وَغَفْلَتِي
Wa kathrati shahawātī wa ghaflatī
اور میری کثرتِ خواہشات اور غفلت پر
وَكُنِ ٱللَّهُمَّ بِعِزَّتِكَ لِي فِي كُلِّ ٱلْأَحْوَالِ رَؤُوفاً
Wa kuni llāhumma biʿizzatika lī fī kulli l-aḥwāli ra’ūfan
اور اے اللہ! اپنی عزت کے واسطے تمام حالات میں مجھ پر مہربان رہ
وَعَلَيَّ فِي جَمِيعِ ٱلْأُمُورِ عَطُوفاً
Wa ʿalayya fī jamīʿi l-umūri ʿaṭūfan
اور تمام معاملات میں مجھ پر شفقت فرما
إِلَٰهِي وَرَبِّي مَنْ لِي غَيْرُكَ أَسْأَلُهُ كَشْفَ ضُرِّي وَٱلنَّظَرَ فِي أَمْرِي
Ilāhī wa rabbī man lī ghayruka as’aluhu kashfa ḍurrī wa n-naẓara fī amrī
اے میرے معبود اور میرے رب! تیرے سوا میرا کون ہے جس سے میں اپنی تکلیف کے دور کرنے اور اپنے معاملے پر نظر کرنے کا سوال کروں؟
إِلَٰهِي وَمَوْلَايَ أَجْرَيْتَ عَلَيَّ حُكْماً ٱتَّبَعْتُ فِيهِ هَوَىٰ نَفْسِي
Ilāhī wa mawlāya ajrayta ʿalayya ḥukman ittabaʿtu fīhi hawā nafsī
اے میرے معبود اور میرے مولا! تو نے مجھ پر ایک حکم جاری کیا جس میں میں نے اپنے نفس کی خواہش کی پیروی کی
وَلَمْ أَحْتَرِسْ فِيهِ مِنْ تَزْيِينِ عَدُوِّي
Wa lam aḥtaris fīhi min tazyīni ʿaduwwī
اور اُس میں اپنے دشمن کی آرائش سے محتاط نہ رہا
فَغَرَّنِي بِمَا أَهْوَىٰ وَأَسْعَدَهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ ٱلْقَضَاءُ
Faghar-ranī bimā ahwā wa asʿadahu ʿalā dhālika l-qaḍā’
پس اُس نے میری خواہش کے ذریعے مجھے فریب دیا اور اِس پر تقدیر نے اُس کی مدد کی
فَتَجَاوَزْتُ بِمَا جَرَىٰ عَلَيَّ مِنْ ذَٰلِكَ بَعْضَ حُدُودِكَ
Fatajāwaztu bimā jarā ʿalayya min dhālika baʿḍa ḥudūdik
پس اُس میں جو کچھ مجھ پر جاری ہوا، اُس کے سبب میں نے تیری بعض حدود سے تجاوز کیا
وَخَالَفْتُ بَعْضَ أَوَامِرِكَ
Wa khālaftu baʿḍa awāmirik
اور تیرے بعض احکام کی مخالفت کی
فَلَكَ ٱلْحُجَّةُ عَلَيَّ فِي جَمِيعِ ذَٰلِكَ
Falaka l-ḥujjatu ʿalayya fī jamīʿi dhālik
پس اِن سب میں تیری ہی حجت مجھ پر قائم ہے
وَلَا حُجَّةَ لِي فِيمَا جَرَىٰ عَلَيَّ فِيهِ قَضَاؤُكَ
Wa lā ḥujjata lī fīmā jarā ʿalayya fīhi qaḍā’uk
اور جس میں تیری قضا مجھ پر جاری ہوئی، اُس میں میرے پاس کوئی حجت نہیں
وَأَلْزَمَنِي حُكْمُكَ وَبَلَاؤُكَ
Wa alzamanī ḥukmuka wa balā’uk
اور تیرے حکم اور تیری آزمائش نے مجھے پابند کر دیا
وَقَدْ أَتَيْتُكَ يَا إِلَٰهِي بَعْدَ تَقْصِيرِي وَإِسْرَافِي عَلَىٰ نَفْسِي
Wa qad ataytuka yā ilāhī baʿda taqṣīrī wa isrāfī ʿalā nafsī
اور اے میرے معبود! میں اپنی کوتاہی اور اپنے نفس پر زیادتی کے بعد تیرے پاس آیا ہوں
مُعْتَذِراً نَادِماً
Muʿtadhiran nādiman
معذرت خواہ، نادم
مُنْكَسِراً مُسْتَقِيلاً
Munkasiran mustaqīlan
شکستہ دل، معافی کا طلب گار
مُسْتَغْفِراً مُنِيباً
Mustaghfiran munīban
طلبِ مغفرت کرنے والا، رجوع کرنے والا
مُقِرّاً مُذْعِناً مُعْتَرِفاً
Muqirran mudhʿinan muʿtarifan
اقرار کرنے والا، سرِ تسلیم خم کرنے والا، اعتراف کرنے والا
لَا أَجِدُ مَفَرّاً مِمَّا كَانَ مِنِّي
Lā ajidu mafarran mimmā kāna minnī
جو کچھ مجھ سے سرزد ہوا، اُس سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں پاتا
وَلَا مَفْزَعاً أَتَوَجَّهُ إِلَيْهِ فِي أَمْرِي
Wa lā mafzaʿan atawajjahu ilayhi fī amrī
اور نہ کوئی پناہ گاہ جس کی طرف میں اپنے معاملے میں رجوع کروں
غَيْرَ قَبُولِكَ عُذْرِي وَإِدْخَالِكَ إِيَّايَ فِي سَعَةٍ مِنْ رَحْمَتِكَ
Ghayra qabūlika ʿudhrī wa idkhālika iyyāya fī saʿatin min raḥmatik
سوائے اِس کے کہ تو میرا عذر قبول کرے اور مجھے اپنی رحمت کی وسعت میں داخل کر لے
اَللَّهُمَّ فَٱقْبَلْ عُذْرِي
Allāhumma fa-qbal ʿudhrī
اے اللہ! پس میرا عذر قبول فرما
وَٱرْحَمْ شِدَّةَ ضُرِّي
Wa-rḥam shiddata ḍurrī
اور میری تکلیف کی شدت پر رحم فرما
وَفُكَّنِي مِنْ شَدِّ وَثَاقِي
Wa fukkanī min shaddi wathāqī
اور مجھے میرے بندھن کی سختی سے آزاد فرما
يَا رَبِّ ٱرْحَمْ ضَعْفَ بَدَنِي وَرِقَّةَ جِلْدِي وَدِقَّةَ عَظْمِي
Yā rabbi-rḥam ḍaʿfa badanī wa riqqata jildī wa diqqata ʿaẓmī
اے میرے رب! میرے بدن کی کمزوری، میری کھال کی نزاکت اور میری ہڈیوں کی باریکی پر رحم فرما
يَا مَنْ بَدَأَ خَلْقِي وَذِكْرِي وَتَرْبِيَتِي وَبِرِّي وَتَغْذِيَتِي
Yā man bada’a khalqī wa dhikrī wa tarbiyatī wa birrī wa taghdhiyatī
اے وہ جس نے میری خلقت، میرے ذکر، میری پرورش، مجھ پر احسان اور میری غذا کی ابتدا کی
هَبْنِي لِٱبْتِدَاءِ كَرَمِكَ وَسَالِفِ بِرِّكَ بِي
Habnī li-btidā’i karamika wa sālifi birrika bī
اپنے کرم کی اُس ابتدا اور مجھ پر اپنے سابقہ احسان کے واسطے مجھے بخش دے
يَا إِلَٰهِي وَسَيِّدِي وَرَبِّي
Yā ilāhī wa sayyidī wa rabbī
اے میرے معبود، میرے آقا اور میرے رب!
أَتُرَاكَ مُعَذِّبِي بِنَارِكَ بَعْدَ تَوْحِيدِكَ
Aturāka muʿadhdhibī binārika baʿda tawḥīdik
کیا تو مجھے اپنی آگ سے عذاب دے گا اُس کے بعد کہ میں نے تیری توحید کا اقرار کیا؟
وَبَعْدَ مَا ٱنْطَوَىٰ عَلَيْهِ قَلْبِي مِنْ مَعْرِفَتِكَ
Wa baʿda ma-nṭawā ʿalayhi qalbī min maʿrifatik
اور اُس کے بعد کہ میرے دل نے تیری معرفت کو سمیٹ لیا
وَلَهِجَ بِهِ لِسَانِي مِنْ ذِكْرِكَ
Wa lahija bihi lisānī min dhikrik
اور میری زبان تیرے ذکر سے تر رہی
وَٱعْتَقَدَهُ ضَمِيرِي مِنْ حُبِّكَ
Wa-ʿtaqadahu ḍamīrī min ḥubbik
اور میرے ضمیر نے تیری محبت کو تھام لیا
وَبَعْدَ صِدْقِ ٱعْتِرَافِي وَدُعَائِي خَاضِعاً لِرُبُوبِيَّتِكَ
Wa baʿda ṣidqi-ʿtirāfī wa duʿā’ī khāḍiʿan lirubūbiyyatik
اور میرے سچے اعتراف اور تیری ربوبیت کے سامنے عاجزی کے ساتھ دعا کے بعد؟
هَيْهَاتَ أَنْتَ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ تُضَيِّعَ مَنْ رَبَّيْتَهُ
Hayhāta anta akramu min an tuḍayyiʿa man rabbaytah
ہرگز نہیں! تو اِس سے کہیں زیادہ کریم ہے کہ جس کی تو نے پرورش کی اُسے ضائع کر دے
أَوْ تُبْعِدَ مَنْ أَدْنَيْتَهُ
Aw tubʿida man adnaytah
یا جسے تو نے قریب کیا اُسے دور کر دے
أَوْ تُشَرِّدَ مَنْ آوَيْتَهُ
Aw tusharrida man āwaytah
یا جسے تو نے پناہ دی اُسے بھگا دے
أَوْ تُسْلِمَ إِلَى ٱلْبَلَاءِ مَنْ كَفَيْتَهُ وَرَحِمْتَهُ
Aw tuslima ila l-balā’i man kafaytahu wa raḥimtah
یا جسے تو نے کفایت کی اور رحم فرمایا اُسے بلا کے سپرد کر دے
وَلَيْتَ شِعْرِي يَا سَيِّدِي وَإِلَٰهِي وَمَوْلَايَ
Wa layta shiʿrī yā sayyidī wa ilāhī wa mawlāy
کاش مجھے معلوم ہوتا، اے میرے آقا، میرے معبود اور میرے مولا!
أَتُسَلِّطُ ٱلنَّارَ عَلَىٰ وُجُوهٍ خَرَّتْ لِعَظَمَتِكَ سَاجِدَةً
Atusalliṭu n-nāra ʿalā wujūhin kharrat liʿaẓamatika sājidah
کیا تو آگ کو اُن چہروں پر مسلط کرے گا جو تیری عظمت کے سامنے سجدہ ریز ہوئے؟
وَعَلَىٰ أَلْسُنٍ نَطَقَتْ بِتَوْحِيدِكَ صَادِقَةً وَبِشُكْرِكَ مَادِحَةً
Wa ʿalā alsunin naṭaqat bitawḥīdika ṣādiqatan wa bishukrika mādiḥah
اور اُن زبانوں پر جو سچائی سے تیری توحید بولیں اور تیرے شکر کے ساتھ حمد کریں؟
وَعَلَىٰ قُلُوبٍ ٱعْتَرَفَتْ بِإِلَٰهِيَّتِكَ مُحَقِّقَةً
Wa ʿalā qulūbin-iʿtarafat bi’ilāhiyyatika muḥaqqiqah
اور اُن دلوں پر جنہوں نے تحقیق کے ساتھ تیری الوہیت کا اعتراف کیا؟
وَعَلَىٰ ضَمَائِرَ حَوَتْ مِنَ ٱلْعِلْمِ بِكَ حَتَّىٰ صَارَتْ خَاشِعَةً
Wa ʿalā ḍamā’ira ḥawat mina l-ʿilmi bika ḥattā ṣārat khāshiʿah
اور اُن ضمیروں پر جنہوں نے تیرا علم اِس قدر سمیٹا کہ خاشع ہو گئے؟
وَعَلَىٰ جَوَارِحَ سَعَتْ إِلَىٰ أَوْطَانِ تَعَبُّدِكَ طَائِعَةً وَأَشَارَتْ بِٱسْتِغْفَارِكَ مُذْعِنَةً
Wa ʿalā jawāriḥa saʿat ilā awṭāni taʿabbudika ṭā’iʿatan wa ashārat bi-stighfārika mudhʿinah
اور اُن اعضا پر جو اطاعت کے ساتھ تیری عبادت گاہوں کی طرف دوڑے اور سرِ تسلیم خم کیے تیری مغفرت کی طرف اشارہ کیا؟
مَا هَٰكَذَا ٱلظَّنُّ بِكَ وَلَا أُخْبِرْنَا بِفَضْلِكَ عَنْكَ
Mā hākadhā ẓ-ẓannu bika wa lā ukhbirnā bifaḍlika ʿanka
تیرے بارے میں ایسا گمان نہیں! اور نہ تیرے فضل کے سبب ہمیں تیرے بارے میں ایسی خبر دی گئی
يَا كَرِيمُ، يَا رَبِّ
Yā karīmu, yā rabb
اے کریم! اے میرے رب!
وَأَنْتَ تَعْلَمُ ضَعْفِي عَنْ قَلِيلٍ مِنْ بَلَاءِ ٱلدُّنْيَا وَعُقُوبَاتِهَا
Wa anta taʿlamu ḍaʿfī ʿan qalīlin min balā’i d-dunyā wa ʿuqūbātihā
اور تو میری کمزوری جانتا ہے دنیا کی تھوڑی سی بلا اور اُس کی سزاؤں کے مقابلے میں
وَمَا يَجْرِي فِيهَا مِنَ ٱلْمَكَارِهِ عَلَىٰ أَهْلِهَا
Wa mā yajrī fīhā mina l-makārihi ʿalā ahlihā
اور جو ناگواریاں اُس کے رہنے والوں پر گزرتی ہیں
عَلَىٰ أَنَّ ذَٰلِكَ بَلَاءٌ وَمَكْرُوهٌ، قَلِيلٌ مَكْثُهُ، يَسِيرٌ بَقَاؤُهُ، قَصِيرٌ مُدَّتُهُ
ʿAlā anna dhālika balā’un wa makrūhun, qalīlun makthuh, yasīrun baqā’uh, qaṣīrun muddatuh
حالانکہ وہ ایسی بلا اور ناگواری ہے جس کا ٹھہرنا تھوڑا، جس کا باقی رہنا معمولی اور جس کی مدت مختصر ہے
فَكَيْفَ ٱحْتِمَالِي لِبَلَاءِ ٱلْآخِرَةِ وَجَلِيلِ وُقُوعِ ٱلْمَكَارِهِ فِيهَا
Fakayfa-ḥtimālī libalā’i l-ākhirati wa jalīli wuqūʿi l-makārihi fīhā
پھر میں آخرت کی بلا اور اُس میں پیش آنے والی عظیم ناگواریوں کو کیسے برداشت کروں گا؟
وَهُوَ بَلَاءٌ تَطُولُ مُدَّتُهُ، وَيَدُومُ مَقَامُهُ، وَلَا يُخَفَّفُ عَنْ أَهْلِهِ
Wa huwa balā’un taṭūlu muddatuh, wa yadūmu maqāmuh, wa lā yukhaffafu ʿan ahlih
اور وہ ایسی بلا ہے جس کی مدت طویل ہے، جس کا قیام دائمی ہے، اور جس کے مبتلا افراد سے تخفیف نہیں کی جاتی
لِأَنَّهُ لَا يَكُونُ إِلَّا عَنْ غَضَبِكَ وَٱنْتِقَامِكَ وَسَخَطِكَ
Li’annahu lā yakūnu illā ʿan ghaḍabika wa-ntiqāmika wa sakhaṭik
کیونکہ وہ تیرے غضب، تیرے انتقام اور تیری ناراضی کے سوا نہیں ہوتی
وَهَٰذَا مَا لَا تَقُومُ لَهُ ٱلسَّمَاوَاتُ وَٱلْأَرْضُ
Wa hādhā mā lā taqūmu lahu s-samāwātu wal-arḍ
اور یہ وہ چیز ہے جس کی تاب آسمان و زمین بھی نہیں لا سکتے
يَا سَيِّدِي فَكَيْفَ بِي
Yā sayyidī fakayfa bī
اے میرے آقا! پھر میرا کیا حال ہوگا؟
وَأَنَا عَبْدُكَ ٱلضَّعِيفُ ٱلذَّلِيلُ ٱلْحَقِيرُ ٱلْمِسْكِينُ ٱلْمُسْتَكِينُ
Wa anā ʿabduka ḍ-ḍaʿīfu dh-dhalīlu l-ḥaqīru l-miskīnu l-mustakīn
اور میں تو تیرا کمزور، ذلیل، حقیر، مسکین اور عاجز بندہ ہوں
يَا إِلَٰهِي وَرَبِّي وَسَيِّدِي وَمَوْلَايَ
Yā ilāhī wa rabbī wa sayyidī wa mawlāy
اے میرے معبود! اے میرے رب! اے میرے آقا! اے میرے مولا!
لِأَيِّ ٱلْأُمُورِ إِلَيْكَ أَشْكُو
Li’ayyi l-umūri ilayka ashkū
میں کن باتوں کی تجھ سے شکایت کروں؟
وَلِمَا مِنْهَا أَضِجُّ وَأَبْكِي
Wa limā minhā aḍijju wa abkī
اور اُن میں سے کس پر نالہ و زاری کروں اور روؤں؟
لِأَلِيمِ ٱلْعَذَابِ وَشِدَّتِهِ
Li’alīmi l-ʿadhābi wa shiddatih
دردناک عذاب اور اُس کی شدت پر؟
أَمْ لِطُولِ ٱلْبَلَاءِ وَمُدَّتِهِ
Am liṭūli l-balā’i wa muddatih
یا بلا کی طوالت اور اُس کی مدت پر؟
فَلَئِنْ صَيَّرْتَنِي لِلْعُقُوبَاتِ مَعَ أَعْدَائِكَ
Fala’in ṣayyartanī lil-ʿuqūbāti maʿa aʿdā’ik
پس اگر تو مجھے اپنے دشمنوں کے ساتھ سزاؤں کے حوالے کر دے
وَجَمَعْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَهْلِ بَلَائِكَ
Wa jamaʿta baynī wa bayna ahli balā’ik
اور مجھے اپنی بلا میں مبتلا لوگوں کے ساتھ جمع کر دے
وَفَرَّقْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَحِبَّائِكَ وَأَوْلِيَائِكَ
Wa farraqta baynī wa bayna aḥibbā’ika wa awliyā’ik
اور مجھے اپنے محبوں اور اپنے اولیا سے جدا کر دے
فَهَبْنِي يَا إِلَٰهِي وَسَيِّدِي وَمَوْلَايَ وَرَبِّي صَبَرْتُ عَلَىٰ عَذَابِكَ
Fahabnī yā ilāhī wa sayyidī wa mawlāya wa rabbī ṣabartu ʿalā ʿadhābik
پس اے میرے معبود، میرے آقا، میرے مولا اور میرے رب! فرض کر لے کہ میں نے تیرے عذاب پر صبر کر لیا
فَكَيْفَ أَصْبِرُ عَلَىٰ فِرَاقِكَ
Fakayfa aṣbiru ʿalā firāqik
تو تیری جدائی پر کیسے صبر کروں گا؟
وَهَبْنِي صَبَرْتُ عَلَىٰ حَرِّ نَارِكَ
Wa habnī ṣabartu ʿalā ḥarri nārik
اور فرض کر لے کہ میں نے تیری آگ کی تپش پر صبر کر لیا
فَكَيْفَ أَصْبِرُ عَنِ ٱلنَّظَرِ إِلَىٰ كَرَامَتِكَ
Fakayfa aṣbiru ʿani n-naẓari ilā karāmatik
تو تیری کرامت کے دیدار سے محرومی پر کیسے صبر کروں گا؟
أَمْ كَيْفَ أَسْكُنُ فِي ٱلنَّارِ وَرَجَائِي عَفْوُكَ
Am kayfa askunu fi n-nāri wa rajā’ī ʿafwuk
یا میں آگ میں کیسے رہوں جبکہ میری امید تیرا عفو ہے؟
فَبِعِزَّتِكَ يَا سَيِّدِي وَمَوْلَايَ أُقْسِمُ صَادِقاً، لَئِنْ تَرَكْتَنِي نَاطِقاً
Fabiʿizzatika yā sayyidī wa mawlāya uqsimu ṣādiqan, la’in taraktanī nāṭiqan
پس اے میرے آقا اور میرے مولا! تیری عزت کی قسم، میں سچی قسم کھاتا ہوں کہ اگر تو نے مجھے بولنے کی حالت میں چھوڑا
لَأَضِجَّنَّ إِلَيْكَ بَيْنَ أَهْلِهَا ضَجِيجَ ٱلْآمِلِينَ
La’aḍijjanna ilayka bayna ahlihā ḍajīja l-āmilīn
تو میں اُس کے رہنے والوں کے درمیان سے تیری طرف امید رکھنے والوں کی طرح نالہ کروں گا
وَلَأَصْرُخَنَّ إِلَيْكَ صُرَاخَ ٱلْمُسْتَصْرِخِينَ
Wa la’aṣrukhanna ilayka ṣurākha l-mustaṣrikhīn
اور تیری طرف فریاد کرنے والوں کی طرح فریاد کروں گا
وَلَأَبْكِيَنَّ عَلَيْكَ بُكَاءَ ٱلْفَاقِدِينَ
Wa la’abkiyanna ʿalayka bukā’a l-fāqidīn
اور تیرے لیے اُن کی طرح روؤں گا جو اپنا عزیز کھو بیٹھے ہوں
وَلَأُنَادِيَنَّكَ أَيْنَ كُنْتَ يَا وَلِيَّ ٱلْمُؤْمِنِينَ
Wa la’unādiyannaka ayna kunta yā waliyya l-mu’minīn
اور میں تجھے پکاروں گا: تو کہاں ہے، اے مومنوں کے ولی؟
يَا غَايَةَ آمَالِ ٱلْعَارِفِينَ
Yā ghāyata āmāli l-ʿārifīn
اے عارفوں کی امیدوں کی انتہا
يَا غِيَاثَ ٱلْمُسْتَغِيثِينَ
Yā ghiyātha l-mustaghīthīn
اے فریاد کرنے والوں کے فریاد رس
يَا حَبِيبَ قُلُوبِ ٱلصَّادِقِينَ
Yā ḥabība qulūbi ṣ-ṣādiqīn
اے سچوں کے دلوں کے محبوب
وَيَا إِلَٰهَ ٱلْعَالَمِينَ
Wa yā ilāha l-ʿālamīn
اور اے تمام جہانوں کے معبود
أَفَتُرَاكَ، سُبْحَانَكَ يَا إِلَٰهِي وَبِحَمْدِكَ، تَسْمَعُ فِيهَا صَوْتَ عَبْدٍ مُسْلِمٍ
Afaturāka, subḥānaka yā ilāhī wa biḥamdik, tasmaʿu fīhā ṣawta ʿabdin muslim
کیا تو — پاک ہے تو اے میرے معبود اور تیری ہی حمد ہے — اُس آگ میں ایک فرمانبردار بندے کی آواز سنے گا
سُجِنَ فِيهَا بِمُخَالَفَتِهِ
Sujina fīhā bimukhālafatih
جو اپنی مخالفت کے سبب اُس میں قید کیا گیا
وَذَاقَ طَعْمَ عَذَابِهَا بِمَعْصِيَتِهِ
Wa dhāqa ṭaʿma ʿadhābihā bimaʿṣiyatih
اور اپنی نافرمانی کے سبب اُس کے عذاب کا مزہ چکھا
وَحُبِسَ بَيْنَ أَطْبَاقِهَا بِجُرْمِهِ وَجَرِيرَتِهِ
Wa ḥubisa bayna aṭbāqihā bijurmihi wa jarīratih
اور اپنے جرم اور گناہ کے سبب اُس کے طبقوں میں محبوس ہوا
وَهُوَ يَضِجُّ إِلَيْكَ ضَجِيجَ مُؤَمِّلٍ لِرَحْمَتِكَ
Wa huwa yaḍijju ilayka ḍajīja mu’ammilin liraḥmatik
اور وہ تیری طرف تیری رحمت کے امیدوار کی طرح نالہ کر رہا ہو
وَيُنَادِيكَ بِلِسَانِ أَهْلِ تَوْحِيدِكَ
Wa yunādīka bilisāni ahli tawḥīdik
اور تجھے تیرے موحدوں کی زبان سے پکار رہا ہو
وَيَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِرُبُوبِيَّتِكَ
Wa yatawassalu ilayka birubūbiyyatik
اور تیری ربوبیت کے واسطے سے تجھ سے توسل کر رہا ہو
يَا مَوْلَايَ فَكَيْفَ يَبْقَىٰ فِي ٱلْعَذَابِ وَهُوَ يَرْجُو مَا سَلَفَ مِنْ حِلْمِكَ
Yā mawlāya fakayfa yabqā fi l-ʿadhābi wa huwa yarjū mā salafa min ḥilmik
اے میرے مولا! پھر وہ عذاب میں کیسے رہے جبکہ وہ تیرے سابقہ حلم کی امید رکھتا ہو؟
أَمْ كَيْفَ تُؤْلِمُهُ ٱلنَّارُ وَهُوَ يَأْمَلُ فَضْلَكَ وَرَحْمَتَكَ
Am kayfa tu’limuhu n-nāru wa huwa ya’malu faḍlaka wa raḥmatak
یا آگ اُسے کیسے تکلیف دے جبکہ وہ تیرے فضل اور رحمت کی امید رکھتا ہو؟
أَمْ كَيْفَ يُحْرِقُهُ لَهِيبُهَا وَأَنْتَ تَسْمَعُ صَوْتَهُ وَتَرَىٰ مَكَانَهُ
Am kayfa yuḥriquhu lahībuhā wa anta tasmaʿu ṣawtahu wa tarā makānah
یا اُس کے شعلے اُسے کیسے جلائیں جبکہ تو اُس کی آواز سنتا اور اُس کی جگہ دیکھتا ہو؟
أَمْ كَيْفَ يَشْتَمِلُ عَلَيْهِ زَفِيرُهَا وَأَنْتَ تَعْلَمُ ضَعْفَهُ
Am kayfa yashtamilu ʿalayhi zafīruhā wa anta taʿlamu ḍaʿfah
یا اُس کی گرج اُسے کیسے گھیرے جبکہ تو اُس کی کمزوری جانتا ہو؟
أَمْ كَيْفَ يَتَقَلْقَلُ بَيْنَ أَطْبَاقِهَا وَأَنْتَ تَعْلَمُ صِدْقَهُ
Am kayfa yataqalqalu bayna aṭbāqihā wa anta taʿlamu ṣidqah
یا وہ اُس کے طبقوں میں کیسے تڑپے جبکہ تو اُس کی سچائی جانتا ہو؟
أَمْ كَيْفَ تَزْجُرُهُ زَبَانِيَتُهَا وَهُوَ يُنَادِيكَ يَا رَبَّهُ
Am kayfa tazjuruhu zabāniyatuhā wa huwa yunādīka yā rabbah
یا اُس کے داروغے اُسے کیسے جھڑکیں جبکہ وہ تجھے پکار رہا ہو: اے میرے رب!
أَمْ كَيْفَ يَرْجُو فَضْلَكَ فِي عِتْقِهِ مِنْهَا فَتَتْرُكُهُ فِيهَا
Am kayfa yarjū faḍlaka fī ʿitqihi minhā fatatrukuhu fīhā
یا وہ اُس سے آزادی میں تیرے فضل کی امید کیسے رکھے جبکہ تو اُسے اُسی میں چھوڑ دے؟
هَيْهَاتَ مَا ذَٰلِكَ ٱلظَّنُّ بِكَ
Hayhāta mā dhālika ẓ-ẓannu bik
ہرگز نہیں! تیرے بارے میں ایسا گمان نہیں
وَلَا ٱلْمَعْرُوفُ مِنْ فَضْلِكَ
Wa la l-maʿrūfu min faḍlik
اور نہ تیرے فضل کے بارے میں جو معروف ہے وہ ایسا ہے
وَلَا مُشْبِهٌ لِمَا عَامَلْتَ بِهِ ٱلْمُوَحِّدِينَ مِنْ بِرِّكَ وَإِحْسَانِكَ
Wa lā mushbihun limā ʿāmalta bihi l-muwaḥḥidīna min birrika wa iḥsānik
اور نہ وہ اُس نیکی اور احسان کے مشابہ ہے جو تو نے موحدوں کے ساتھ کیا
فَبِٱلْيَقِينِ أَقْطَعُ لَوْلَا مَا حَكَمْتَ بِهِ مِنْ تَعْذِيبِ جَاحِدِيكَ
Fabil-yaqīni aqṭaʿu lawlā mā ḥakamta bihi min taʿdhībi jāḥidīk
پس میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ اگر تو نے اپنے منکروں کے عذاب کا حکم نہ دیا ہوتا
وَقَضَيْتَ بِهِ مِنْ إِخْلَادِ مُعَانِدِيكَ
Wa qaḍayta bihi min ikhlādi muʿānidīk
اور اپنے عناد کرنے والوں کے ہمیشہ رہنے کا فیصلہ نہ کیا ہوتا
لَجَعَلْتَ ٱلنَّارَ كُلَّهَا بَرْداً وَسَلَاماً
Lajaʿalta n-nāra kullahā bardan wa salāman
تو تو ساری آگ کو ٹھنڈک اور سلامتی بنا دیتا
وَمَا كَانَ لِأَحَدٍ فِيهَا مَقَرّاً وَلَا مُقَاماً
Wa mā kāna li’aḥadin fīhā maqarran wa lā muqāman
اور اُس میں کسی کے لیے نہ ٹھکانا ہوتا نہ قیام گاہ
لَٰكِنَّكَ تَقَدَّسَتْ أَسْمَاؤُكَ أَقْسَمْتَ أَنْ تَمْلَأَهَا مِنَ ٱلْكَافِرِينَ
Lākinnaka taqaddasat asmā’uka aqsamta an tamla’ahā mina l-kāfirīn
لیکن تو نے — تیرے نام پاک ہیں — قسم کھائی ہے کہ تو اُسے کافروں سے بھر دے گا
مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجْمَعِينَ
Mina l-jinnati wa n-nāsi ajmaʿīn
جنوں اور انسانوں سب سے
وَأَنْ تُخَلِّدَ فِيهَا ٱلْمُعَانِدِينَ
Wa an tukhallida fīhā l-muʿānidīn
اور یہ کہ تو اُس میں عناد کرنے والوں کو ہمیشہ رکھے گا
وَأَنْتَ جَلَّ ثَنَاؤُكَ قُلْتَ مُبْتَدِئاً، وَتَطَوَّلْتَ بِٱلْإِنْعَامِ مُتَكَرِّماً
Wa anta jalla thanā’uka qulta mubtadi’an, wa taṭawwalta bil-inʿāmi mutakarriman
اور تو نے — تیری ثنا بلند ہے — ابتدا کرتے ہوئے فرمایا، اور کرم فرماتے ہوئے انعام سے نوازا
أَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِناً كَمَنْ كَانَ فَاسِقاً لَا يَسْتَوُونَ
Afaman kāna mu’minan kaman kāna fāsiqan lā yastawūn
“کیا وہ جو مومن ہو اُس کی طرح ہے جو فاسق ہو؟ وہ برابر نہیں ہو سکتے۔”
Quranic verse — Surah as-Sajdah 32:18
إِلَٰهِي وَسَيِّدِي فَأَسْأَلُكَ بِٱلْقُدْرَةِ ٱلَّتِي قَدَّرْتَهَا
Ilāhī wa sayyidī fa as’aluka bil-qudrati llatī qaddartahā
اے میرے معبود اور میرے آقا! پس میں تجھ سے اُس قدرت کے واسطے سوال کرتا ہوں جو تو نے مقرر کی
وَبِٱلْقَضِيَّةِ ٱلَّتِي حَتَمْتَهَا وَحَكَمْتَهَا وَغَلَبْتَ مَنْ عَلَيْهِ أَجْرَيْتَهَا
Wa bil-qaḍiyyati llatī ḥatamtahā wa ḥakamtahā wa ghalabta man ʿalayhi ajraytahā
اور اُس فیصلے کے واسطے جسے تو نے حتمی کیا اور نافذ کیا اور جس پر تو نے اُسے جاری کیا اُس پر غالب آیا
أَنْ تَهَبَ لِي، فِي هَٰذِهِ ٱللَّيْلَةِ، وَفِي هَٰذِهِ ٱلسَّاعَةِ
An tahaba lī, fī hādhihi l-laylati, wa fī hādhihi s-sāʿah
کہ تو مجھے اِس رات اور اِس گھڑی میں بخش دے
كُلَّ جُرْمٍ أَجْرَمْتُهُ
Kulla jurmin ajramtuh
ہر وہ جرم جو میں نے کیا
وَكُلَّ ذَنْبٍ أَذْنَبْتُهُ
Wa kulla dhanbin adhnabtuh
اور ہر وہ گناہ جو میں نے کیا
وَكُلَّ قَبِيحٍ أَسْرَرْتُهُ
Wa kulla qabīḥin asrartuh
اور ہر وہ برائی جو میں نے چھپائی
وَكُلَّ جَهْلٍ عَمِلْتُهُ
Wa kulla jahlin ʿamiltuh
اور ہر وہ جہالت جو میں نے کی
كَتَمْتُهُ أَوْ أَعْلَنْتُهُ
Katamtuhu aw aʿlantuh
خواہ میں نے اُسے چھپایا ہو یا ظاہر کیا ہو
أَخْفَيْتُهُ أَوْ أَظْهَرْتُهُ
Akhfaytuhu aw aẓhartuh
یا میں نے اُسے پوشیدہ رکھا ہو یا آشکار کیا ہو
وَكُلَّ سَيِّئَةٍ أَمَرْتَ بِإِثْبَاتِهَا ٱلْكِرَامَ ٱلْكَاتِبِينَ
Wa kulla sayyi’atin amarta bi’ithbātihā l-kirāma l-kātibīn
اور ہر وہ برائی جس کے لکھنے کا تو نے کراماً کاتبین کو حکم دیا
ٱلَّذِينَ وَكَّلْتَهُمْ بِحِفْظِ مَا يَكُونُ مِنِّي
Alladhīna wakkaltahum biḥifẓi mā yakūnu minnī
جنہیں تو نے میرے اعمال کی حفاظت پر مقرر کیا
وَجَعَلْتَهُمْ شُهُوداً عَلَيَّ مَعَ جَوَارِحِي
Wa jaʿaltahum shuhūdan ʿalayya maʿa jawāriḥī
اور اُنہیں میرے اعضا کے ساتھ میرے خلاف گواہ بنایا
وَكُنْتَ أَنْتَ ٱلرَّقِيبَ عَلَيَّ مِنْ وَرَائِهِمْ
Wa kunta anta r-raqība ʿalayya min warā’ihim
اور تو خود اُن کے پیچھے سے میرا نگہبان تھا
وَٱلشَّاهِدَ لِمَا خَفِيَ عَنْهُمْ
Wa sh-shāhida limā khafiya ʿanhum
اور جو اُن سے پوشیدہ رہا اُس کا گواہ تھا
وَبِرَحْمَتِكَ أَخْفَيْتَهُ
Wa biraḥmatika akhfaytah
اور اپنی رحمت سے تو نے اُسے چھپا دیا
وَبِفَضْلِكَ سَتَرْتَهُ
Wa bifaḍlika satartah
اور اپنے فضل سے تو نے اُس پر پردہ ڈال دیا
وَأَنْ تُوَفِّرَ حَظِّي مِنْ كُلِّ خَيْرٍ تُنْزِلُهُ
Wa an tuwaffira ḥaẓẓī min kulli khayrin tunziluh
اور یہ کہ تو ہر اُس بھلائی سے میرا حصہ وافر کر دے جو تو نازل کرتا ہے
أَوْ إِحْسَانٍ تُفْضِلُهُ
Aw iḥsānin tufḍiluh
یا ہر اُس احسان سے جو تو عطا کرتا ہے
أَوْ بِرٍّ تَنْشِرُهُ
Aw birrin tanshiruh
یا ہر اُس نیکی سے جو تو پھیلاتا ہے
أَوْ رِزْقٍ تَبْسُطُهُ
Aw rizqin tabsuṭuh
یا ہر اُس رزق سے جو تو کشادہ کرتا ہے
أَوْ ذَنْبٍ تَغْفِرُهُ
Aw dhanbin taghfiruh
یا ہر اُس گناہ سے جو تو بخشتا ہے
أَوْ خَطَأٍ تَسْتُرُهُ
Aw khaṭa’in tasturuh
یا ہر اُس خطا سے جس پر تو پردہ ڈالتا ہے
يَا رَبِّ يَا رَبِّ يَا رَبِّ
Yā rabbi yā rabbi yā rabb
اے میرے رب! اے میرے رب! اے میرے رب!
يَا إِلَٰهِي وَسَيِّدِي وَمَوْلَايَ وَمَالِكَ رِقِّي
Yā ilāhī wa sayyidī wa mawlāya wa mālika riqqī
اے میرے معبود! اے میرے آقا! اے میرے مولا! اے میری غلامی کے مالک!
يَا مَنْ بِيَدِهِ نَاصِيَتِي
Yā man biyadihi nāṣiyatī
اے وہ جس کے ہاتھ میں میری پیشانی ہے!
يَا عَلِيماً بِضُرِّي وَمَسْكَنَتِي
Yā ʿalīman biḍurrī wa maskanatī
اے میری تکلیف اور میری مسکینی کو جاننے والے!
يَا خَبِيراً بِفَقْرِي وَفَاقَتِي
Yā khabīran bifaqrī wa fāqatī
اے میرے فقر اور میری محتاجی سے باخبر!
يَا رَبِّ يَا رَبِّ يَا رَبِّ
Yā rabbi yā rabbi yā rabb
اے میرے رب! اے میرے رب! اے میرے رب!
أَسْأَلُكَ بِحَقِّكَ وَقُدْسِكَ
As’aluka biḥaqqika wa qudsik
میں تجھ سے تیرے حق اور تیری قدوسیت کے واسطے سوال کرتا ہوں
وَأَعْظَمِ صِفَاتِكَ وَأَسْمَائِكَ
Wa aʿẓami ṣifātika wa asmā’ik
اور تیری عظیم ترین صفات اور ناموں کے واسطے
أَنْ تَجْعَلَ أَوْقَاتِي فِي ٱللَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ بِذِكْرِكَ مَعْمُورَةً
An tajʿala awqātī fi l-layli wa n-nahāri bidhikrika maʿmūrah
کہ تو رات اور دن میں میرے اوقات کو اپنے ذکر سے آباد کر دے
وَبِخِدْمَتِكَ مَوْصُولَةً
Wa bikhidmatika mawṣūlah
اور اپنی خدمت سے پیوستہ کر دے
وَأَعْمَالِي عِنْدَكَ مَقْبُولَةً
Wa aʿmālī ʿindaka maqbūlah
اور میرے اعمال کو اپنے نزدیک مقبول بنا دے
حَتَّىٰ تَكُونَ أَعْمَالِي وَأَوْرَادِي كُلُّهَا وِرْداً وَاحِداً
Ḥattā takūna aʿmālī wa awrādī kulluhā wirdan wāḥidan
یہاں تک کہ میرے تمام اعمال اور اوراد ایک ہی ورد بن جائیں
وَحَالِي فِي خِدْمَتِكَ سَرْمَداً
Wa ḥālī fī khidmatika sarmadan
اور تیری خدمت میں میرا حال ہمیشہ کے لیے ہو جائے
يَا سَيِّدِي، يَا مَنْ عَلَيْهِ مُعَوَّلِي
Yā sayyidī, yā man ʿalayhi muʿawwalī
اے میرے آقا! اے وہ جس پر میرا بھروسا ہے!
يَا مَنْ إِلَيْهِ شَكَوْتُ أَحْوَالِي
Yā man ilayhi shakawtu aḥwālī
اے وہ جس سے میں نے اپنے احوال کی شکایت کی!
يَا رَبِّ يَا رَبِّ يَا رَبِّ
Yā rabbi yā rabbi yā rabb
اے میرے رب! اے میرے رب! اے میرے رب!
قَوِّ عَلَىٰ خِدْمَتِكَ جَوَارِحِي
Qawwi ʿalā khidmatika jawāriḥī
میرے اعضا کو اپنی خدمت پر قوت عطا فرما
وَٱشْدُدْ عَلَى ٱلْعَزِيمَةِ جَوَانِحِي
Wa-shdud ʿala l-ʿazīmati jawāniḥī
اور میرے پہلوؤں کو عزم پر مضبوط فرما
وَهَبْ لِيَ ٱلْجِدَّ فِي خَشْيَتِكَ
Wa hab liya l-jidda fī khashyatik
اور مجھے اپنے خوف میں سنجیدگی عطا فرما
وَٱلدَّوَامَ فِي ٱلِٱتِّصَالِ بِخِدْمَتِكَ
Wa d-dawāma fi l-ittiṣāli bikhidmatik
اور اپنی خدمت سے وابستگی میں دوام عطا فرما
حَتَّىٰ أَسْرَحَ إِلَيْكَ فِي مَيَادِينِ ٱلسَّابِقِينَ
Ḥattā asraḥa ilayka fī mayādīni s-sābiqīn
یہاں تک کہ میں سبقت لے جانے والوں کے میدانوں میں تیری طرف رواں ہو جاؤں
وَأُسْرِعَ إِلَيْكَ فِي ٱلْمُبَادِرِينَ
Wa usriʿa ilayka fi l-mubādirīn
اور پہل کرنے والوں میں تیری طرف جلدی کروں
وَأَشْتَاقَ إِلَىٰ قُرْبِكَ فِي ٱلْمُشْتَاقِينَ
Wa ashtāqa ilā qurbika fi l-mushtāqīn
اور مشتاقوں میں تیرے قرب کا مشتاق ہوں
وَأَدْنُوَ مِنْكَ دُنُوَّ ٱلْمُخْلِصِينَ
Wa adnuwa minka dunuwwa l-mukhliṣīn
اور مخلصوں کے قرب کی طرح تیرے قریب ہوں
وَأَخَافَكَ مَخَافَةَ ٱلْمُوقِنِينَ
Wa akhāfaka makhāfata l-mūqinīn
اور یقین رکھنے والوں کے خوف کی طرح تجھ سے ڈروں
وَأَجْتَمِعَ فِي جِوَارِكَ مَعَ ٱلْمُؤْمِنِينَ
Wa ajtamiʿa fī jiwārika maʿa l-mu’minīn
اور تیرے جوار میں مومنوں کے ساتھ جمع ہو جاؤں
اَللَّهُمَّ وَمَنْ أَرَادَنِي بِسُوءٍ فَأَرِدْهُ
Allāhumma wa man arādanī bisū’in fa’irdah
اے اللہ! جو میرے ساتھ برائی کا ارادہ کرے، تو اُس کے ساتھ ویسا ہی ارادہ فرما
وَمَنْ كَادَنِي فَكِدْهُ
Wa man kādanī fakidh
اور جو میرے ساتھ چال چلے، تو اُس کے ساتھ چال چل
وَٱجْعَلْنِي مِنْ أَحْسَنِ عَبِيدِكَ نَصِيباً عِنْدَكَ
Wa-jʿalnī min aḥsani ʿabīdika naṣīban ʿindak
اور مجھے اپنے بندوں میں سے اپنے نزدیک بہترین حصے والا بنا
وَأَقْرَبِهِمْ مَنْزِلَةً مِنْكَ
Wa aqrabihim manzilatan mink
اور اُن میں سے تیرے قریب ترین مرتبے والا
وَأَخَصِّهِمْ زُلْفَةً لَدَيْكَ
Wa akhaṣṣihim zulfatan ladayk
اور اُن میں سے تیرے ہاں سب سے زیادہ مقرب
فَإِنَّهُ لَا يُنَالُ ذَٰلِكَ إِلَّا بِفَضْلِكَ
Fa’innahu lā yunālu dhālika illā bifaḍlik
کیونکہ یہ تیرے فضل کے سوا حاصل نہیں ہو سکتا
وَجُدْ لِي بِجُودِكَ
Wa jud lī bijūdik
اور اپنی سخاوت سے مجھ پر جود فرما
وَٱعْطِفْ عَلَيَّ بِمَجْدِكَ
Wa-ʿṭif ʿalayya bimajdik
اور اپنی بزرگی سے مجھ پر شفقت فرما
وَٱحْفَظْنِي بِرَحْمَتِكَ
Wa-ḥfaẓnī biraḥmatik
اور اپنی رحمت سے میری حفاظت فرما
وَٱجْعَلْ لِسَانِي بِذِكْرِكَ لَهِجاً
Wa-jʿal lisānī bidhikrika lahijan
اور میری زبان کو اپنے ذکر سے تر رکھ
وَقَلْبِي بِحُبِّكَ مُتَيَّماً
Wa qalbī biḥubbika mutayyaman
اور میرے دل کو اپنی محبت میں گرفتار کر دے
وَمُنَّ عَلَيَّ بِحُسْنِ إِجَابَتِكَ
Wa munna ʿalayya biḥusni ijābatik
اور اپنی بہترین قبولیت سے مجھ پر احسان فرما
وَأَقِلْنِي عَثْرَتِي
Wa aqilnī ʿathratī
اور میری لغزش سے درگزر فرما
وَٱغْفِرْ زَلَّتِي
Wa-ghfir zallatī
اور میری خطا بخش دے
فَإِنَّكَ قَضَيْتَ عَلَىٰ عِبَادِكَ بِعِبَادَتِكَ
Fa’innaka qaḍayta ʿalā ʿibādika biʿibādatik
کیونکہ تو نے اپنے بندوں پر اپنی عبادت فرض کی
وَأَمَرْتَهُمْ بِدُعَائِكَ
Wa amartahum biduʿā’ik
اور اُنہیں اپنی دعا کا حکم دیا
وَضَمِنْتَ لَهُمُ ٱلْإِجَابَةَ
Wa ḍaminta lahumu l-ijābah
اور اُن کے لیے قبولیت کی ضمانت دی
فَإِلَيْكَ يَا رَبِّ نَصَبْتُ وَجْهِي
Fa’ilayka yā rabbi naṣabtu wajhī
پس اے میرے رب! میں نے تیری ہی طرف اپنا رخ کیا
وَإِلَيْكَ يَا رَبِّ مَدَدْتُ يَدِي
Wa ilayka yā rabbi madadtu yadī
اور اے میرے رب! میں نے تیری ہی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا
فَبِعِزَّتِكَ ٱسْتَجِبْ لِي دُعَائِي
Fabiʿizzatika-stajib lī duʿā’ī
پس تیری عزت کے واسطے میری دعا قبول فرما
وَبَلِّغْنِي مُنَايَ
Wa balligh-nī munāy
اور مجھے میری مراد تک پہنچا دے
وَلَا تَقْطَعْ مِنْ فَضْلِكَ رَجَائِي
Wa lā taqṭaʿ min faḍlika rajā’ī
اور اپنے فضل سے میری امید نہ کاٹ
وَٱكْفِنِي شَرَّ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنْسِ مِنْ أَعْدَائِي
Wa-kfinī sharra l-jinni wal-insi min aʿdā’ī
اور مجھے جنوں اور انسانوں میں سے میرے دشمنوں کے شر سے بچا
يَا سَرِيعَ ٱلرِّضَا
Yā sarīʿa r-riḍā
اے وہ جو جلد راضی ہو جانے والا ہے!
ٱغْفِرْ لِمَنْ لَا يَمْلِكُ إِلَّا ٱلدُّعَاءَ
Ighfir liman lā yamliku illa d-duʿā’
اُسے بخش دے جو دعا کے سوا کچھ نہیں رکھتا
فَإِنَّكَ فَعَّالٌ لِمَا تَشَاءُ
Fa’innaka faʿʿālun limā tashā’
کیونکہ تو جو چاہے کر گزرنے والا ہے
يَا مَنِ ٱسْمُهُ دَوَاءٌ
Yā mani-smuhu dawā’
اے وہ جس کا نام دوا ہے
وَذِكْرُهُ شِفَاءٌ
Wa dhikruhu shifā’
اور جس کا ذکر شفا ہے
وَطَاعَتُهُ غِنًى
Wa ṭāʿatuhu ghinan
اور جس کی اطاعت بے نیازی ہے
ٱرْحَمْ مَنْ رَأْسُ مَالِهِ ٱلرَّجَاءُ
Irḥam man ra’su mālihi r-rajā’
اُس پر رحم فرما جس کا سرمایہ امید ہے
وَسِلَاحُهُ ٱلْبُكَاءُ
Wa silāḥuhu l-bukā’
اور جس کا ہتھیار آنسو ہیں
يَا سَابِغَ ٱلنِّعَمِ
Yā sābigha n-niʿam
اے نعمتوں کو وافر کرنے والے!
يَا دَافِعَ ٱلنِّقَمِ
Yā dāfiʿa n-niqam
اے مصیبتوں کو دور کرنے والے!
يَا نُورَ ٱلْمُسْتَوْحِشِينَ فِي ٱلظُّلَمِ
Yā nūra l-mustawḥishīna fi ẓ-ẓulam
اے اندھیروں میں وحشت زدہ لوگوں کے نور!
يَا عَالِماً لَا يُعَلَّمُ
Yā ʿāliman lā yuʿallam
اے وہ عالم جسے کسی نے نہیں سکھایا!
صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
Ṣalli ʿalā Muḥammadin wa āli Muḥammad
محمد اور آلِ محمد پر درود بھیج
وَٱفْعَلْ بِي مَا أَنْتَ أَهْلُهُ
Wa-fʿal bī mā anta ahluh
اور میرے ساتھ وہ سلوک فرما جس کے تو اہل ہے
وَصَلَّى ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَٱلْأَئِمَّةِ ٱلْمَيَامِينِ مِنْ آلِهِ
Wa ṣalla llāhu ʿalā rasūlihi wal-a’immati l-mayāmīni min ālih
اور اللہ درود بھیجے اپنے رسول پر اور اُن کی آل میں سے برکت والے ائمہ پر
وَسَلَّمَ تَسْلِيماً كَثِيراً
Wa sallama taslīman kathīran
اور بہت زیادہ سلام بھیجے
دعائے کمیل
دعاؤں کا مجموعہ
قسم: دعا | منسوب: امام علیؑ | مستحب وقت: جمعرات کی شب | مقصد: گناہوں کی بخشش امام علیؑ نے یہ دعا کمیل بن زیاد نخعی کو تعلیم فرمائی اور ہدایت کی کہ اسے جمعرات کی شب (شبِ جمعہ)، یا مہینے میں ایک مرتبہ، یا کم از کم سال میں ایک بار ضرور پڑھا جائے۔ آپؑ نے فرمایا کہ جو شخص اخلاص کے ساتھ یہ دعا پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اسے دشمنوں کے شر، فریب کاروں کی سازشوں سے محفوظ رکھے گا اور اپنی رحمت و مغفرت سے نوازے گا۔
## دعائے کمیل کی اہمیت دعائے کمیل اسلامی روایات کی نہایت معروف اور روح پرور دعاؤں میں سے ایک ہے۔ یہ دعا امام علیؑ کے وفادار صحابی اور معتمد ساتھی کمیل بن زیاد نخعی نے براہِ راست امامؑ سے روایت کی ہے۔ علامہ مجلسیؒ کے مطابق، امام علیؑ نے مسجدِ بصرہ میں ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس میں آپؑ نے پندرہ شعبان کی رات کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص اس مبارک رات عبادت میں گزارے اور حضرت خضرؑ کی دعا پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔ مجلس کے بعد کمیل بن زیادؒ نے امام علیؑ سے حضرت خضرؑ کی دعا سکھانے کی درخواست کی۔ امامؑ نے انہیں دعا لکھوائی اور اسے یاد رکھنے کی تلقین فرمائی۔ پھر ہدایت کی کہ اسے ہر جمعرات کی شب، یا مہینے میں ایک مرتبہ، یا کم از کم سال میں ایک بار ضرور پڑھا جائے۔ امامؑ نے فرمایا کہ اس دعا کے ذریعے اللہ تعالیٰ بندے کو دشمنوں کے شر اور دھوکے بازوں کی سازشوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ کمیل بن زیادؒ کی وفاداری، فہم اور قربت کے باعث امام علیؑ نے یہ عظیم دعا ان کے سپرد فرمائی، اسی نسبت سے یہ دعا 'دعائے کمیل' کے نام سے مشہور ہوئی۔