بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ،
رَبِّ أَدْخِلْنِي فِي لُجَّةِ بَحْرِ أَحَدِيَّتِكَ، وَطَمْطامِ يَمِّ وَحْدانِيَّتِكَ، وَقَوِّنِي بِقُوَّةِ سَطْوَةِ سُلْطانِ فَرْدانِيَّتِكَ، حَتَّى أَخْرُجَ إِلى فَضاءِ سَعَةِ رَحْمَتِكَ، وَفِي وَجْهِي لَمَعاتُ بَرْقِ القُرْبِ مِنْ آثارِ حِمايَتِكَ، مَهِيباً بِهَيْبَتِكَ عَزِيزاً بِعِنايَتِكَ، مُتَجَلِّلاً مُكَرَّماً بِتَعْلِيمِكَ وَتَزْكِيَـتِكَ، وَأَلْبِسْنِي خِلَعَ العِزَّةِ وَالقَبُولِ، وَسَهِّلْ لِي مَناهِجَ الوُصْلَةِ وَالوُصُولِ، وَتَوِّجْنِي بِتاجِ الكَرامَةِ وَالوَقارِ وَأَلِّفْ بَيْنِي وَبَيْنَ أحِبَّائِكَ فِي دارِ الدُّنْيا وَدارِ القَرارِ وَارْزُقْنِي مِنْ نُورِ اسْمِكَ هَيْبَةً وَسَطْوَةً تَنْقادُ لِيَ القُلُوبُ وَالأَرْواحُ وَتَخْضَعُ لَدَيَّ النُّفُوسُ وَالأشْباحُ، يا مَنْ ذَلَّتْ لَهُ رِقابُ الجَبابِرَةِ وَخَضَعَتْ لَدَيْهِ أَعْناقُ الأكاسِرَةِ، لا مَلْجَأَ وَلا مَنْجىً مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ وَلا إعانَةَ إِلَّا بِكَ وَلا اتِّكاءَ إِلَّا عَلَيْكَ، اِدْفَعْ عَنِّي كَيْدَ الحاسِدِينَ وَظُلُماتِ شَرِّ المُعانِدينَ وَارْحَمْنِي تَحْتَ سُرادِقاتِ عَرْشِكَ يا أكْرَمَ الأكْرَمِينَ.
أَيِّدْ ظاهِري فِي تَحْصِيلِ مَراضِيكَ وَنَوِّرْ قَلْبِي وَسِرِّي بِالاطِّلاعِ عَلى مَناهِجِ مَساعِيكَ، إِلهِي كَيْفَ أَصْدُرُ عَنْ بابِكَ بِخَيْبَةٍ مِنْكَ وَقَدْ وَرَدْتُهُ عَلى ثِقَةٍ بِكَ؟ وَكَيْفَ تُؤْيِسُنِي مِنْ عَطائِكَ وَقَدْ أَمَرْتَني بِدُعائِكَ؟ وَها أَنا مُقْبِلٌ عَلَيْكَ مُلْتَجِئٌ إِلَيْكَ، باعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ أعْدائِي كَما باعَدْتَ بَيْنَ أعْدائِي، اِخْتَطِفْ أَبْصارَهُمْ عَنِّي بِنُورِ قُدْسِكَ وَجَلالِ مَجْدِكَ إنَّكَ أَنْتَ اللهُ المُعْطِي جَلائِلَ النِّعَمِ المُكَرَّمَةِ لِمَنْ ناجاكَ بِلَطائِفِ رَحْمَتِكَ، يا حَيُّ يا قَيُّومُ يا ذا الجَلالِ وَالإِكْرامِ، وَصَلَّى الله عَلى سَيِّدِنا وَنَبِيِّنا مُحَمَّدٍ وآلِهِ أجْمَعينَ الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ.
شُروع اَللہ کے پاک نام سے جو بڑا مہر بان نہايت رحم والا ہے
خدایا مجھے اپنی یگانگی کے سمندر میں داخل فرما اور اپنی یکتائی کی موجوں میں وارد کر دے اور اپنی یکتا کی سلطنت کے دبدبہ سے مجھے قوت عطا کر یہاں تک کہ میں تیری رحمت کی وسیع فضاء میں جا پہنچوں اور میرے چہرے پر تیرے قرب کی روشنی کی کرنیں تیری حمایت کی نشانیاں بن جائیں تیرے رعب سے مجھے رعب ملے تیری مہربانی سے معزز ہو جاؤں تیری تعلیم و تربیت سے مجھے جلالت و کرامت حاصل ہو مجھے عزت و قبولیت کا لباس پہنا دے اور میرے لیے اپنے قرب و قربت کی راہیں آسان فرما دے میرے سر پر بڑائی اور شوکت کا تاج سجا دے اور الفت قائم کر دے اپنے پیاروں کے اور میرے درمیان اس دنیا اور دوسری دنیا میں اپنے نام کے نور سے مجھے ایسا رعب و دبدبہ عطا فرما کہ لوگوں کے دل اور جانیں میری مطیع ہوں اور ان کے جسم اور پنجر میرے آگے جھکے رہیں اے وہ جس کے سامنے ظالم لوگ پست ہیں اور جس کے حضور بادشاہوں کی گردنیں جھکتی ہیں تجھ سے پناہ اور نجات نہیں مگر تیری ہی جناب میں اور نہیں کوئی امداد مگر تیری طرف سے نہیں کوئی تکیہ گاہ مگر تو ہی ہے دور فرما مجھ سے حاسدوں کے فریب اور دشمنوں کے شر کے اندھیرے اور مجھ پر رحمت فرما پردہ ہائے عرش تلے رکھ کر اے سب سے زیادہ بزرگی والے میری پشت مضبوط فرما کہ میں تیری پسندیدہ چیزیں حاصل کروں میرے قلب و روح کو روشن کر دے تا کہ میں تیرے لیے کوشش کرنے کی راہیں دیکھوں میرے معبود میں کس طرح تیرے دروازے سے مایوس ہو کر ہٹ جاؤں جبکہ تجھ پر بھروسہ کرکے یہاں حاضر ہوا تھا اور تو اپنی عطا سے مجھے کیسے مایوس کرے گا جب تیرا حکم ہے کہ تجھے پکارا کروں اور اب میں تیرے حضور آیا پڑا ہوں تجھ سے عرض کرتا ہوں کہ میرے اور میرے دشمنوں میں دوری کر دے جیسے تو نے میرے دشمنوں میں دوری ڈالی میری طرف سے انکی آنکھ کو چندھیا دے اپنے پاکیزہ نور اور اپنی جلالت شان سے بے شک تو ہی وہ اللہ ہے جو اپنے لطف و کرم سے اپنی بلند نعمتیں اسے عطا فرماتا ہے جو چپکے چپکے تجھ سے سوال کرتا ہے اے زندہ اے نگہبان اے جلالت و بزرگی کے مالک اور رحمت فرما ہمارے سردار اور ہمارے نبی محمدؐ اور ان کی ساری آلؑ پر جو پاک و صاف ہیں۔