بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔ اللّٰهُمَّ رَبَّ النُّورِ الْعَظِيمِ، وَرَبَّ الْكُرْسِيِّ الرَّفِيعِ، وَرَبَّ الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ، وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ، وَرَبَّ الظِّلِّ وَالْحَرُورِ، وَمُنْزِلَ الْقُرْآنِ الْعَظِيمِ، وَرَبَّ الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ، وَالْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ۔ اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ، وَبِنُورِ وَجْهِكَ الْمُنِيرِ، وَمُلْكِكَ الْقَدِيمِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ بِهِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرَضُونَ، وَبِاسْمِكَ الَّذِي يَصْلُحُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ، يَا حَيًّا قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ، وَيَا حَيًّا بَعْدَ كُلِّ حَيٍّ، وَيَا حَيًّا حِينَ لَا حَيَّ، يَا مُحْيِيَ الْمَوْتَى وَمُمِيتَ الْأَحْيَاءِ، يَا حَيُّ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ۔ اللّٰهُمَّ بَلِّغْ مَوْلَانَا الْإِمَامَ الْهَادِيَ الْمَهْدِيَّ الْقَائِمَ بِأَمْرِكَ، صَلَوَاتُ اللّٰهِ عَلَيْهِ وَعَلَى آبَائِهِ الطَّاهِرِينَ، عَنْ جَمِيعِ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ فِي مَشَارِقِ الْأَرْضِ وَمَغَارِبِهَا، سَهْلِهَا وَجَبَلِهَا، وَبَرِّهَا وَبَحْرِهَا، وَعَنِّي وَعَنْ وَالِدَيَّ مِنَ الصَّلَوَاتِ زِنَةَ عَرْشِ اللّٰهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ، وَمَا أَحْصَاهُ عِلْمُهُ، وَأَحَاطَ بِهِ كِتَابُهُ۔ اللّٰهُمَّ إِنِّي أُجَدِّدُ لَهُ فِي صَبِيحَةِ يَوْمِي هٰذَا، وَمَا عِشْتُ مِنْ أَيَّامِي، عَهْدًا وَعَقْدًا وَبَيْعَةً لَهُ فِي عُنُقِي، لَا أَحُولُ عَنْهَا وَلَا أَزُولُ أَبَدًا۔ اللّٰهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أَنْصَارِهِ وَأَعْوَانِهِ، وَالذَّابِّينَ عَنْهُ، وَالْمُسَارِعِينَ إِلَيْهِ فِي قَضَاءِ حَوَائِجِهِ، وَالْمُحَامِينَ عَنْهُ، وَالسَّابِقِينَ إِلَى إِرَادَتِهِ، وَالْمُسْتَشْهَدِينَ بَيْنَ يَدَيْهِ۔ اللّٰهُمَّ إِنْ حَالَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ الْمَوْتُ الَّذِي جَعَلْتَهُ عَلَى عِبَادِكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا، فَأَخْرِجْنِي مِنْ قَبْرِي، مُؤْتَزِرًا كَفَنِي، شَاهِرًا سَيْفِي، مُجَرِّدًا قَنَاتِي، مُلَبِّيًا دَعْوَةَ الدَّاعِي فِي الْحَاضِرِ وَالْبَادِي۔ اللّٰهُمَّ أَرِنِي الطَّلْعَةَ الرَّشِيدَةَ، وَالْغُرَّةَ الْحَمِيدَةَ، وَاكْحُلْ نَاظِرِي بِنَظْرَةٍ مِنِّي إِلَيْهِ، وَعَجِّلْ فَرَجَهُ، وَسَهِّلْ مَخْرَجَهُ، وَأَوْسِعْ مَنْهَجَهُ، وَاسْلُكْ بِي مَحَجَّتَهُ، وَأَنْفِذْ أَمْرَهُ، وَاشْدُدْ أَزْرَهُ، وَاعْمُرِ اللّٰهُمَّ بِهِ بِلَادَكَ، وَأَحْيِ بِهِ عِبَادَكَ۔ فَإِنَّكَ قُلْتَ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ: ﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ﴾، فَأَظْهِرِ اللّٰهُمَّ لَنَا وَلِيَّكَ وَابْنَ بِنْتِ نَبِيِّكَ، الْمُسَمَّى بِاسْمِ رَسُولِكَ، حَتَّى لَا يَظْفَرَ بِشَيْءٍ مِنَ الْبَاطِلِ إِلَّا مَزَّقَهُ، وَيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُحَقِّقَهُ، وَاجْعَلْهُ اللّٰهُمَّ مَفْزَعًا لِمَظْلُومِ عِبَادِكَ، وَنَاصِرًا لِمَنْ لَا يَجِدُ لَهُ نَاصِرًا غَيْرَكَ، وَمُجَدِّدًا لِمَا عُطِّلَ مِنْ أَحْكَامِ كِتَابِكَ، وَمُشَيِّدًا لِمَا وَرَدَ مِنْ أَعْلَامِ دِينِكَ وَسُنَنِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ، وَاجْعَلْهُ اللّٰهُمَّ مِمَّنْ حَصَّنْتَهُ مِنْ بَأْسِ الْمُعْتَدِينَ۔ اللّٰهُمَّ وَسُرَّ نَبِيَّكَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ بِرُؤْيَتِهِ، وَمَنْ تَبِعَهُ عَلَى دَعْوَتِهِ، وَارْحَمِ اسْتِكَانَتَنَا بَعْدَهُ۔ اللّٰهُمَّ اكْشِفْ هٰذِهِ الْغُمَّةَ عَنْ هٰذِهِ الْأُمَّةِ بِحُضُورِهِ، وَعَجِّلْ لَنَا ظُهُورَهُ، إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيدًا، وَنَرَاهُ قَرِيبًا، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔
پھر دائیں ران پر ہاتھ مار کر تین مرتبہ کہیں:
الْعَجَلَ الْعَجَلَ يَا مَوْلَايَ يَا صَاحِبَ الزَّمَانِ۔
الْعَجَلَ الْعَجَلَ يَا مَوْلَايَ يَا صَاحِبَ الزَّمَانِ۔
الْعَجَلَ الْعَجَلَ يَا مَوْلَايَ يَا صَاحِبَ الزَّمَانِ۔
امام جعفر صادقؑ سے نقل ہوا ہے کہ جو شخص چالیس روز تک ہر صبح اس دعائے عہد کو پڑھے تو وہ امام (عج) کے مدد گاروں میں سے ہو گا اور اگر وہ امام عليہ السلام کے ظہور سے پہلے فوت ہو جائے تو خداوند کریم اسے قبر سے اٹھائیگا تاکہ وہ امامؑ کے ہمراہ ہو جائے اللہ تعالیٰ اس دعا کے ہر لفظ کے عوض اسے ایک ہزار نیکیاں عطا کرے گا اور اسکے ایک ہزار گناہ محو کر دے گا وہ دعائے عہد یہ ہے:
شُروع اللہ کے پاک نام سے جو بڑا مہربان نہايت رحم والا ہے۔
اے معبود! اے عظیم نورکے پروردگار اے بلند کرسی کے پروردگار اے موجیں مارتے سمندر کے پروردگار اور اے توریت اور انجیل اور زبور کے نازل کرنے والے اور اے سایۂ اور دھوپ کے پروردگار اے قرآن عظیم کے نازل کرنے والے اے مقرب فرشتوں اور فرستادہ نبیوں اور رسولوں کے پروردگار اے معبود بے شک میں سوال کرتا ہوں تیری ذات کریم کے واسطے سے تیری روشن ذات کے نور کے واسطے سے اور تیری قدیم بادشاہی کے واسطے سے اے زندہ اے پائندہ تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے جس سے چمک رہے ہیں سارے آسمان اور ساری زمینیں تیرے نام کے واسطے سے جس سے اوّلین وآخرین نے بھلائی پائی، اے زندہ ہر زندہ سے پہلے اور اے زندہ ہر زندہ کے بعد اور اے زندہ جب کوئی زندہ نہ تھا اے مردوں کو زندہ کرنے والے اے زندوں کو موت دینے والے اے وہ زندہ کہ تیرے سواء کوئی معبود نہیں اے معبود ہمارے مولا امام ہادی مہدیؑ کو جو تیرے حکم سے قائم ہیں ان پر اور ان کے پاک بزرگان پر خدا کی رحمتیں ہوں اور تمام مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کی طرف سے جو زمین کے مشرقوں اور مغربوں میں ہیں میدانوں اور پہاڑوں اور خشکیوں اور سمندروں میں میری طرف سے میرے والدین کی طرف سے بہت دُرود وسلام پہنچا دے جو ہم وزن ہو عرش اور اسکے کلمات کی روشنائی کے اور جو چیزیں اس کے علم میں ہیں اور اس کی کتاب میں درج ہیں، اے معبود میں تازہ کرتا ہوں ان کے لیے آج کے دن کی صبح کو اور جب تک زندہ ہوں باقی ہے یہ پیمان یہ بندھن اور ان کی بیعت جو میری گردن پر ہے نہ اس سے مکروں گا، نہ کبھی ترک کروں گا، اے معبود مجھے ان کے مددگاروں ان کے ساتھیوں اور ان کا دفاع کرنے والوں میں قرار دے، میں حاجت برآوری کیلئے ان کی طرف بڑھنے والوں انکے احکام پر عمل کرنے والوں انکی طرف سے دعوت دینے والوں انکے ارادوں کو جلد پورے کرنے والوں اور انکے سامنے شہید ہونے والوں میں قرار دے اے معبود! اگر میرے اور میرے امام علیہ السلام کے درمیان موت حائل ہوجائے جو تو نے اپنے بندوں کے لیے آمادہ کر رکھی ہے تو پھر مجھے قبر سے اس طرح نکالنا کہ کفن میرا لباس ہو میری تلوار بے نیام ہو میرا نیزہ بلند ہو داعی حق کی دعوت پر لبیک کہوں شہر اور گاؤں میں، اے معبود مجھے حضرتؑ کا رخ زیبا آپؑ کی درخشاں پیشانی دکھا ان کے دیدار کو میری آنکھوں کا سرمہ بنا ان کی کشائش میں جلدی فرما ان کے ظہور کو آسان بنا ان کا راستہ وسیع کر دے اور مجھ کو ان کی راہ پر چلا ان کا حکم جاری فرما ان کی قوت کو بڑھا اور اے معبود ان کے ذریعے اپنے شہر آباد کر اور اپنے بندوں کو عزت کی زندگی دے کیونکہ تو نے فرمایا اور تیرا قول حق ہے کہ ظاہر ہوا فساد خشکی اور سمندر میں یہ نتیجہ ہے لوگوں کے غلط اعمال و افعال کا، پس اے معبود! ظہور کر ہمارے لیے اپنے ولی علیہ السلام اور اپنے نبی صلىاللهعليہ وآلہ وسلم کی دختر (س) کے فرزند کا جن کا نام تیرے رسولؐ کے نام پر ہے یہاں تک کہ وہ باطل کا نام و نشان مٹا ڈالیں حق کو حق کہیں اور اسے قائم کریں، اے معبود! قرار دے انکو اپنے مظلوم بندوں کیلئے جائے پناہ اور ان کے مددگار جن کا تیرے سوا کوئی مددگار نہیں بنا ان کو اپنی کتاب کے ان احکام کے زندہ کرنے والے جو بُھلا دیئے گئے ان کو اپنے دین کے خاص احکام اور اپنے نبی صلىاللهعليہ وآلہ وسلم کے طریقوں کو راسخ کرنے والے بنا ان پر اور انکی آل علیہ السلام پر خدا کی رحمت ہو اور اے معبود! انہیں ان لوگوں میں رکھ جن کو تو نے ظالموں کے حملے سے بچایا، اے معبود! خوشنود کر اپنے نبی محمدؐ کو ان کے دیدار سے اور جنہوں نے ان کی دعوت میں انکا ساتھ دیا اور ان کے بعد ہماری حالت زار پر رحم فرما، اے معبود! ان کے ظہور سے اُمت کی اس مشکل اور مصیبت کو دور کر دے اور ہمارے لیے جلد انکا ظہور فرما کہ لوگ انکو دور اور ہم انہیں نزدیک سمجھتے ہیں تیری رحمت کاواسطہ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے پھر تین بار دائیں ران پر ہاتھ مارے اور ہر بار کہے:
جلد آئیے، جلد آئیے، اے میرے آقا! اے زمانہ حاضر کے امام علیہ السلام۔