دعائے عدیلہ — عربی متن مع اردو ترجمہ | سادات
Skip to content

دعائے عدیلہ

دُعائیں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّ‌حْمٰنِ الرَّ‌حِيمِ۔ شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ، وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ، لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ، إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ، وَأَنَا الْعَبْدُ الضَّعِيفُ الْمُذْنِبُ الْعَاصِي الْمُحْتَاجُ الْحَقِيرُ، أَشْهَدُ لِمُنْعِمِي وَخَالِقِي وَرَازِقِي وَمُكْرِمِي كَمَا شَهِدَ لِذَاتِهِ، وَشَهِدَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ مِنْ عِبَادِهِ بِأَنَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ، ذُو النِّعَمِ وَالْإِحْسَانِ وَالْكَرَمِ وَالِامْتِنَانِ، قَادِرٌ أَزَلِيٌّ، عَالِمٌ أَبَدِيٌّ، حَيٌّ أَحَدِيٌّ، مَوْجُودٌ سَرْمَدِيٌّ، سَمِيعٌ بَصِيرٌ، مُرِيدٌ كَارِهٌ مُدْرِكٌ صَمَدِيٌّ، يَسْتَحِقُّ هَذِهِ الصِّفَاتِ، وَهُوَ عَلَى مَا هُوَ عَلَيْهِ فِي عِزِّ صِفَاتِهِ، كَانَ قَوِيًّا قَبْلَ وُجُودِ الْقُدْرَةِ وَالْقُوَّةِ، وَكَانَ عَلِيمًا قَبْلَ إِيجَادِ الْعِلْمِ وَالْعِلَّةِ، لَمْ يَزَلْ سُلْطَانًا إِذْ لَا مَمْلَكَةَ وَلَا مَالَ، وَلَمْ يَزَلْ سُبْحَانًا عَلَى جَمِيعِ الْأَحْوَالِ، وُجُودُهُ قَبْلَ الْقَبْلِ فِي أَزَلِ الْآزَالِ، وَبَقَاؤُهُ بَعْدَ الْبَعْدِ مِنْ غَيْرِ انْتِقَالٍ وَلَا زَوَالٍ، غَنِيٌّ فِي الْأَوَّلِ وَالْآخِرِ، مُسْتَغْنٍ فِي الْبَاطِنِ وَالظَّاهِرِ، لَا جَوْرَ فِي قَضِيَّتِهِ، وَلَا مَيْلَ فِي مَشِيَّتِهِ، وَلَا ظُلْمَ فِي تَقْدِيرِهِ، وَلَا مَهْرَبَ مِنْ حُكُومَتِهِ، وَلَا مَلْجَأَ مِنْ سَطَوَاتِهِ، وَلَا مَنْجَى مِنْ نَقِمَاتِهِ. سَبَقَتْ رَحْمَتُهُ غَضَبَهُ، وَلَا يَفُوتُهُ أَحَدٌ إِذَا طَلَبَهُ، أَزَاحَ الْعِلَلَ فِي التَّكْلِيفِ، وَسَوَّى التَّوْفِيقَ بَيْنَ الضَّعِيفِ وَالشَّرِيفِ، مَكَّنَ أَدَاءَ الْمَأْمُورِ، وَسَهَّلَ سَبِيلَ اجْتِنَابِ الْمَحْظُورِ، لَمْ يُكَلِّفِ الطَّاعَةَ إِلَّا دُونَ الْوُسْعِ وَالطَّاقَةِ. سُبْحَانَهُ، مَا أَبْيَنَ كَرَمَهُ، وَأَعْلَى شَأْنَهُ! سُبْحَانَهُ، مَا أَجَلَّ نَيْلَهُ، وَأَعْظَمَ إِحْسَانَهُ! بَعَثَ الْأَنْبِيَاءَ لِيُبَيِّنَ عَدْلَهُ، وَنَصَبَ الْأَوْصِيَاءَ لِيُظْهِرَ طَوْلَهُ وَفَضْلَهُ، وَجَعَلَنَا مِنْ أُمَّةِ سَيِّدِ الْأَنْبِيَاءِ، وَخَيْرِ الْأَوْلِيَاءِ، وَأَفْضَلِ الْأَصْفِيَاءِ، وَأَعْلَى الْأَزْكِيَاءِ، مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ. آمَنَّا بِهِ وَبِمَا دَعَانَا إِلَيْهِ، وَبِالْقُرْآنِ الَّذِي أَنْزَلَهُ عَلَيْهِ، وَبِوَصِيِّهِ الَّذِي نَصَبَهُ يَوْمَ الْغَدِيرِ، وَأَشَارَ بِقَوْلِهِ: «هَذَا عَلِيٌّ» إِلَيْهِ. وَأَشْهَدُ أَنَّ الْأَئِمَّةَ الْأَبْرَارَ، وَالْخُلَفَاءَ الْأَخْيَارَ بَعْدَ الرَّسُولِ الْمُخْتَارِ: عَلِيٌّ قَامِعُ الْكُفَّارِ، وَمِنْ بَعْدِهِ سَيِّدُ أَوْلَادِهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثُمَّ أَخُوهُ السِّبْطُ التَّابِعُ لِمَرْضَاةِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ، ثُمَّ الْعَابِدُ عَلِيٌّ، ثُمَّ الْبَاقِرُ مُحَمَّدٌ، ثُمَّ الصَّادِقُ جَعْفَرٌ، ثُمَّ الْكَاظِمُ مُوسَى، ثُمَّ الرِّضَا عَلِيٌّ، ثُمَّ التَّقِيُّ مُحَمَّدٌ، ثُمَّ النَّقِيُّ عَلِيٌّ، ثُمَّ الزَّكِيُّ الْعَسْكَرِيُّ الْحَسَنُ، ثُمَّ الْحُجَّةُ الْخَلَفُ الْقَائِمُ الْمُنْتَظَرُ الْمَهْدِيُّ الْمُرْجَى، الَّذِي بِبَقَائِهِ بَقِيَتِ الدُّنْيَا، وَبِيُمْنِهِ رُزِقَ الْوَرَى، وَبِوُجُودِهِ ثَبَتَتِ الْأَرْضُ وَالسَّمَاءُ، وَبِهِ يَمْلَأُ اللَّهُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا بَعْدَ مَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا. وَأَشْهَدُ أَنَّ أَقْوَالَهُمْ حُجَّةٌ، وَامْتِثَالَهُمْ فَرِيضَةٌ، وَطَاعَتَهُمْ مَفْرُوضَةٌ، وَمَوَدَّتَهُمْ لَازِمَةٌ مَقْضِيَّةٌ، وَالِاقْتِدَاءَ بِهِمْ مُنْجِيَةٌ، وَمُخَالَفَتَهُمْ مُرْدِيَةٌ، وَهُمْ سَادَاتُ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَجْمَعِينَ، وَشُفَعَاءُ يَوْمِ الدِّينِ، وَأَئِمَّةُ أَهْلِ الْأَرْضِ عَلَى الْيَقِينِ، وَأَفْضَلُ الْأَوْصِيَاءِ الْمَرْضِيِّينَ. وَأَشْهَدُ أَنَّ الْمَوْتَ حَقٌّ، وَمُسَاءَلَةَ الْقَبْرِ حَقٌّ، وَالْبَعْثَ حَقٌّ، وَالنُّشُورَ حَقٌّ، وَالصِّرَاطَ حَقٌّ، وَالْمِيزَانَ حَقٌّ، وَالْحِسَابَ حَقٌّ، وَالْكِتَابَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةَ حَقٌّ، وَالنَّارَ حَقٌّ، وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا، وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ. اللَّهُمَّ فَضْلُكَ رَجَائِي، وَكَرَمُكَ وَرَحْمَتُكَ أَمَلِي، لَا عَمَلَ لِي أَسْتَحِقُّ بِهِ الْجَنَّةَ، وَلَا طَاعَةَ لِي أَسْتَوْجِبُ بِهَا الرِّضْوَانَ، إِلَّا أَنِّي اعْتَقَدْتُ تَوْحِيدَكَ وَعَدْلَكَ، وَارْتَجَيْتُ إِحْسَانَكَ وَفَضْلَكَ، وَتَشَفَّعْتُ إِلَيْكَ بِالنَّبِيِّ وَآلِهِ مِنْ أَحِبَّتِكَ، وَأَنْتَ أَكْرَمُ الْأَكْرَمِينَ، وَأَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ. وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ أَجْمَعِينَ، الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ، وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا كَثِيرًا، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ. اللَّهُمَّ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، إِنِّي أَوْدَعْتُكَ يَقِينِي هَذَا، وَثَبَاتَ دِينِي، وَأَنْتَ خَيْرُ مُسْتَوْدَعٍ، وَقَدْ أَمَرْتَنَا بِحِفْظِ الْوَدَائِعِ، فَرُدَّهُ عَلَيَّ وَقْتَ حُضُورِ مَوْتِي، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَدِيلَةِ عِنْدَ الْمَوْتِ۔ اللَّهُمَّ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، إِنِّي قَدْ أَوْدَعْتُكَ يَقِينِي هَذَا، وَثَبَاتَ دِينِي، وَأَنْتَ خَيْرُ مُسْتَوْدَعٍ، وَقَدْ أَمَرْتَنَا بِحِفْظِ الْوَدَائِعِ، فَرُدَّهُ عَلَيَّ وَقْتَ حُضُورِ مَوْتِي۔ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ نَبِيًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِالْقُرْآنِ كِتَابًا، وَبِالْكَعْبَةِ قِبْلَةً، وَبِعَلِيٍّ وَلِيًّا وَإِمَامًا، وَبِالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ، وَعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، وَجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَمُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ، وَعَلِيِّ بْنِ مُوسَى، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، وَعَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَالْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ، صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ، أَئِمَّةً۔ اللَّهُمَّ إِنِّي رَضِيتُ بِهِمْ أَئِمَّةً، فَارْضَنِي لَهُمْ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔

شُروع اللہ کے پاک نام سے جو بڑا مہربان نہايت رحم والا ہے۔
اللہ گواہ ہے کہ سوائے اسکے کوئی معبود نہیں نیز ملائکہ اور با انصاف صاحبانِ علم بھی اس پر گواہی دے رہے ہیں کہ سوائے اسکے کوئی معبود نہیں، جو صاحب عزت حکمت والا ہے یقیناً خدا کا پسندیدہ دین اسلام ہی ہے اور میں جو ایک ناتواں گنہگار خطاکار حاجت مند اور بے مایہ بندہ ہوں میں اپنے منعم، خالق، رازق اور اپنے کرم فرما خدا کی گواہی دیتا ہوں، جیسے اس نے اپنی ذات کی گواہی دی ہے نیز ملائکہ اور صاحبِ علم بندوں نے بھی اسکی گواہی دی ہے کہ سوائے اسکے کوئی معبود نہیں جو نعمت، احسان و کرم اور عطا کا مالک ہے اور وہ ہمیشہ سے صاحبِ قدرت اور دائمی صاحبِ علم، زندہ، یکتا اور ہمیشگی والا موجود ہے سننے والا دیکھنے والا ارادے والا ناپسند کرنے والا پا لینے والا بے نیاز ہے وہ ان صفات کا صحیح حقدار ہے اور وہ دیگر صفات کا بھی مالک ہے جو بہت بڑی صفات ہیں کہ قدرت اور قوت کے وجود میں آنے سے قبل وہ صاحبِ قوت تھا اور وہ صاحبِ علم تھا علم اور دلیل کی ایجاد سے پہلے وہ مستقل سلطان تھا جب نہ کوئی ملک تھا اور نہ مال، وہ لازوال پاکیزہ تھا ہر ہر حال میں کہ اس کا وجود قبل سے قبل اور ازلوں کے ازل سے ہے اور اس کی بقا بعد سے بعد ہے کہ جس میں نہ تبدیلی ہے نہ زوال وہ اوّل و آخر سے بے نیاز اور ظاہر و باطن میں بے پرواہ ہے، اسکے فیصلے میں ظلم نہیں اور اسکی مرضی میں طرفداری نہیں ہے اسکی تقدیر میں ستم نہیں اور اسکی حکومت سے فرار ممکن نہیں، اسکا قہر آئے تو کوئی پناہ نہیں اور وہ عذاب کرے تو نجات نہیں اسکی رحمت، غضب سے پہلے ہے جسے وہ طلب کرے وہ فرار نہیں کرسکتا اس نے فریضوں میں اضداد دور کردیں اور توفیق دینے میں ادنیٰ و اعلیٰ میں برابری رکھی ہے، حکم کردہ باتوں پر عمل کو ممکن اور گناہ سے بچنے کا راستہ آسان کردیا ہے اس نے وسعت و طاقت سے کم تر فریضے عائد کئے ہیں، پاک ہے وہ جسکا کرم کتنا واضح اور شان کتنی بلند ہے، پاک ہے وہ کہ جسکا نام کتنا عمدہ اور احسان کتنا بڑا ہے اس نے اپنے عدل کی تشریح کیلئے انبیاء بھیجے اور اپنے فضل و کرم کے اظہار کی خاطر اوصیاء کو مامور فرمایا اور ہمیں نبیوں کے سردار ولیوں میں بہتر برگزیدوں میں سب سے افضل اور پاکبازوں میں سب سے بلند حضرت محمد صلى‌الله‌عليہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اُمت میں قرار دیا، ہم ان پر ایمان لائے اور انکے پیغام پر اور قرآن پر جو ان پر نازل ہوا اور انکے جانشینؑ پر جسے انہوں نے یومِ غدیر مقرر کیا اور اپنی زبان سے فرمایا کہ یہ ہے علی علیہ السلام جو میرا وصی ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت رسول اللہؐ کے بعد نیکوکار امام علیہ السلام اور بہترین جانشین ہیں جن میں علیعلیہ السلام ہی کافروں کو ختم کرنے والے ہیں اور انکے بعد انکی اولاد کے سردار حسنعلیہ السلام بن علیعلیہ السلام پھر انکے بھائی نواسہِ رسول، اللہ کی رضاؤں کے طلبگار حسینعلیہ السلام ہیں، پھر علیعلیہ السلام بن الحسینعلیہ السلام پھر محمد باقرعلیہ السلام پھر جعفر صادقعلیہ السلام پھر موسیٰ کاظم علیہ السلام پھر علی رضا علیہ السلام پھر محمد تقیعلیہ السلام ہیں انکے بعد علی نقیعلیہ السلام ہیں پھر حسن عسکری زکی علیہ السلام ہیں پھر حضرت حجتِ خلق قائم المنتظر مہدی علیہ السلام امیدگاہِ خلق ہیں جنکی بقاء سے دنیا قائم ہے اور انکی برکت سے مخلوق کو روزی ملتی ہے اور انکے وجود سے زمین و آسمان کھڑے ہیں اور انکے ذریعے اللہ تعالیٰ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیگا جب کہ وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ان آئمہؑ کے اقوال حجت، ان پر عمل کرنا واجب اور انکی پیروی فرض ہے اور ان سے محبت رکھنا ضروری و لازم ہے انکی اطاعت باعثِ نجات اور ان سے مخالفت وجہ تباہی ہے اور وہ سب کے سب اہل جنت کے سردار ہیں، قیامت میں شفاعت کرنے والے اور یقینی طور پر اہلِ زمین کے امام علیہ السلام ہیں، وہ پسندیدہ اوصیاء میں سے افضل ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ موت حق ہے قبر میں سوال و جواب حق ہیں، دوبارہ اٹھنا حق ہے، قیامت میں حاضری حق ہے، صراط سے گزرنا حق ہے، میزان عمل حق ہے حساب حق ہے اور کتاب حق ہے اسی طرح جنت حق ہے اور جہنم حق ہے نیز قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور اللہ انہیں ضرور اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں۔ اے معبود! تیرا فضل میرا سہارا اور تیری رحمت و بخشش میری امید ہے میرا کوئی ایسا عمل نہیں جس سے میں جنت کا حقدا ر بنوں اور نہ عبادت ہے کہ جو تیری خوشنودی کا باعث ہو سوائے اسکے کہ میں تیری توحید و عدل پر اعتقاد رکھتا ہوں اور تیرے فضل و احسان کی امید رکھتا ہوں اور تیرے حضور تیرے نبی صلى‌الله‌عليہ ‌وآلہ ‌وسلم اور انکی آل علیہ السلام کی شفاعت لایا ہوں جو تیرے محبوب ہیں اور تو سب سے زیادہ کرم کرنے والا اور سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے اور ہمارے نبی محمدؐ پر اور انکی ساری آلؑ پر خدا کی رحمت ہو جو پاک و پاکیزہ ہیں اور ان پر سلام ہو سلامِ خاص زیادہ بہت زیادہ اور نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو بلند وبرتر خدا سے ملتی ہے، اے معبود اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے بے شک میں اپنا یہ عقیدہ اوردین میں ثابت قدمی تیرے سپرد کرتا ہوں اور تو بہترین امانتدار ہے اور تو نے ہمیں امانتوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے پس اپنی رحمت سے میرا یہ عقیدہ بوقتِ مرگ مجھے یاد دلا دینا، واسطہ تجھے تیری رحمت کا اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
مؤلف کہتے ہیں اسکے ساتھ معصومینؑ سے یہ الفاظ بھی مروی ہیں:
اے معبود! وقتِ مرگ اس عقیدے سے پلٹنے سے، میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔
عدیلہ موت سے مراد موت کے وقت حق سے باطل کیطرف پھر جانا ہے، اسکی صورت یہ ہے کہ جان کنی کے وقت شیطان شک میں ڈال کر گمراہ کر دیتا ہے اور یوں انسان ایمان چھوڑ بیٹھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ دعاؤں میں ایسی صورتِ حال سے پناہ طلب کی گئی ہے۔ فخر المحققین نے فرمایا ہے کہ جو شخص موت کے وقت اس خطرے سے محفوظ رہنا چاہتا ہے اسے ایمان اور اصول دین کی دلیلیں ذہن نشین کیے رکھنا چاہئیں اور پھر انکو بطورِ امانت خدا کی بارگاہ میں پیش کردینا چاہیئے تاکہ موت کی گھڑی میں یہ امانت اسے واپس مل جائے۔ اسکا طریقہ یہ ہے کہ عقائد حقّہ کو دہرانے کے بعد کہیں:
اے معبود! اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے، بے شک میں اپنا یہ عقیدہ اور دین میں اپنی ثابت قدمی تیرے سپرد کرتا ہوں اور تو بہترین امانتدار ہے اور تو نے ہمیں امانتوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے، پس اپنی رحمت سے میرا یہ عقیدہ وقتِ مرگ مجھے یاد دلادینا۔
پس ان بزرگوار کے فرمان کے مطابق اس دعا عدیلہ کا پڑھنا اور اسکے مطالب کو وقتِ مرگ دل میں رکھنا، حق سے پھر جانے کے خطرے کو روکنا ہے۔ اب رہی یہ بات کہ آیا یہ دعا منقول ہے یا خود علمائے کرام نے اسے مرتب کیا ہے؟
اس بارے میں عرض ہے کہ علمِ حدیث کے ماہر اور اخبارِ ائمہؑ کے جمع کرنے والے محدث اعظم الحاج میرزا حسین نوری کا فرمان ہے کہ معروف دعاءِ عدیلہ بعض علماء کی وضع کردہ ہے، یہ کسی امام علیہ السلام سے نقل نہیں ہوئی اور نہ ہی یہ حدیث کی کتابوں میں پائی جائی ہے۔ لیکن واضح رہے کہ شیخ طوسی نے محمد بن سلیمان دیلمی سے روایت کی ہے کہ میں نے امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں عرض کیا کہ بعض شیعہ بھائیوں کا کہنا ہے کہ ایمان کی دو قسمیں ہیں، یعنی ایک محکم و ثابت اور دوسرا عارضی و امانتی جو زائل ہوسکتا ہے۔ پس آپؑ مجھے کوئی ایسی دعا تعلیم فرمائیں کہ جسکے پڑھنے سے میرا ایمان قائم و ثابت رہے اور زائل نہ ہونے پائے۔ اس پر آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ہر واجب نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرو۔
میں راضی ہوں اس پر کہ اللہ میرا رب اور حضرت محمدؐ میرے نبی ہیں اسلام میرا دین ہے قرآن میری کتاب ہے کعبہ میرا قبلہ ہے اور راضی ہوں اس پر کہ علیؑ میرے مولا اور امام ہیں، نیز
حسن علیہ السلام و حسین علیہ السلام، علی علیہ السلام ابن حسین علیہ السلام، محمد علیہ السلام ابن علی علیہ السلام، جعفر علیہ السلام ابن محمد علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام ابن جعفر علیہ السلام، علی علیہ السلام ابن موسیٰ علیہ السلام، محمد علیہ السلام ابن علی علیہ السلام، علی علیہ السلام ابن محمد علیہ السلام، حسن علیہ السلام ابن علی علیہ السلام، اور حجت علیہ السلام ابن حسن علیہ السلام، کہ ان پر اللہ کی رحمتیں ہوں، یہ میرے امام ہیں۔
اے معبود! میں راضی ہوں کہ وہ میرے امام علیہ السلام ہیں پس انہیں مجھ سے راضی فرما دے، بے شک تو ہر چیز پرقادر ہے۔

کاؤنٹر، آڈیو اور آف لائن مطالعہ ایپ میں دستیاب ہے۔

سادات کو ساتھ رکھیں

مکمل تجربہ — آف لائن مطالعہ، آڈیو، یاد دہانیاں اور بک مارکس — ایپ میں ہے۔

جلد آ رہی ہےApp StoreGet it onGoogle Play