روزانہ نمازوں کی رکعات — ۵۱ رکعات
شیعہ (جعفری) فقہ میں ایک پورے دن رات کی نماز ۵۱ رکعات ہے: پنج وقتہ نمازوں کی ۱۷ واجب رکعات اور اُن کے آگے پیچھے پڑھی جانے والی ۳۴ مستحب (نافلہ) رکعات، جن میں نمازِ شب (تہجد) کی ۱۱ رکعات بھی شامل ہیں۔ واجب نمازیں کبھی نہیں چھوڑنی چاہئیں؛ نوافل بہت زیادہ مستحب ہیں اور روایات کے مطابق واجب نمازوں کی کمی کو پورا کرتی ہیں۔
۱۷ واجب رکعات
فجر (صبح) — ۲ رکعات
ظہر — ۴ رکعات
عصر — ۴ رکعات
مغرب — ۳ رکعات
عشاء — ۴ رکعات
۲ + ۴ + ۴ + ۳ + ۴ = ۱۷ رکعات
سفر میں (قصر کی شرائط کے ساتھ) ظہر، عصر اور عشاء دو دو رکعت ہو جاتی ہیں؛ فجر اور مغرب ویسی ہی رہتی ہیں، یوں کل ۱۱ رکعات بنتی ہیں۔
۳۴ مستحب رکعات (نوافل)
ہر نافلہ دو دو رکعت کر کے بالکل نمازِ فجر کی طرح، اُسی نافلہ کی نیت سے پڑھی جاتی ہے۔ صرف نمازِ وتر ایک رکعت ہے۔
نافلۂ فجر — ۲ رکعات، نمازِ فجر سے پہلے۔ اس کا وقت نمازِ شب کے بعد (فجرِ اوّل سے) شروع ہوتا ہے اور مشرق میں سرخی نمودار ہونے تک رہتا ہے۔
نافلۂ ظہر — ۸ رکعات، نمازِ ظہر سے پہلے؛ ظہر کا وقت شروع ہونے سے لے کر اس وقت تک جب شاخص کا سایہ اس کی لمبائی کے دو بٹا سات (۲/۷) تک پہنچ جائے۔
نافلۂ عصر — ۸ رکعات، نمازِ عصر سے پہلے؛ اس وقت تک جب سایہ شاخص کی لمبائی کے چار بٹا سات (۴/۷) تک پہنچ جائے۔
نافلۂ مغرب — ۴ رکعات، نمازِ مغرب کے بعد، مغرب کی جانب کی سرخی ختم ہونے تک۔
نافلۂ عشاء (وُتَیرہ) — ۲ رکعات جو نمازِ عشاء کے بعد آدھی رات تک بیٹھ کر پڑھی جاتی ہیں۔ چونکہ بیٹھ کر پڑھی جاتی ہیں اس لیے ایک رکعت شمار ہوتی ہیں۔
نمازِ شب (تہجد) — ۱۱ رکعات، آدھی رات سے اذانِ فجر تک؛ تفصیل نیچے ہے۔
۲ + ۸ + ۸ + ۴ + ۱ + ۱۱ = ۳۴ رکعات
نمازِ شب (تہجد) — ۱۱ رکعات
وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰى اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا 79
Wa minal-layli fatahajjad bihī nāfilatan lak, ʿasā an yabʿathaka Rabbuka maqāman maḥmūdā.
اور رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھو، یہ تمہارے لیے ایک زائد عبادت ہے۔ امید ہے کہ تمہارا رب تمہیں مقامِ محمود پر فائز کرے۔ (سورۂ بنی اسرائیل، آیت ۷۹)
نمازِ شب تمام نوافل میں سب سے زیادہ تاکید والی ہے۔ اس کا وقت آدھی رات (غروبِ آفتاب اور اذانِ فجر کے درمیانی وقت کا نصف) سے اذانِ فجر تک ہے، اور بہترین وقت رات کا آخری حصہ، سحر کے قریب ہے۔ یہ تین حصوں میں پڑھی جاتی ہے:
نافلۂ شب — ۸ رکعات، دو دو رکعت کی چار نمازوں کی صورت میں، اس نیت سے: «دو رکعت نافلۂ شب پڑھتا ہوں قربۃً الی اللہ»۔
نمازِ شفع — ۲ رکعات، ایک نماز، شفع کی نیت سے۔
نمازِ وتر — ۱ رکعت، وتر کی نیت سے۔ سورۂ حمد کے بعد تین مرتبہ سورۂ اخلاص، پھر سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھنا، اور پھر ہاتھ اٹھا کر طویل قنوت پڑھنا مستحب ہے۔
وتر کے قنوت میں مستحب ہے:
چالیس (یا زیادہ) مومن مردوں اور عورتوں کے لیے نام لے کر دعا کریں۔
ستر مرتبہ کہیں: اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ
سات مرتبہ کہیں: هٰذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِكَ مِنَ النَّارِ
تین سو مرتبہ کہیں: اَلْعَفْو
۸ + ۲ + ۱ = ۱۱ رکعات
پورا دن ایک نظر میں
رات — نمازِ شب ۱۱ ← نافلۂ فجر ۲ ← فجر ۲
دن — نافلۂ ظہر ۸ ← ظہر ۴ ← نافلۂ عصر ۸ ← عصر ۴
شام — مغرب ۳ ← نافلۂ مغرب ۴ ← عشاء ۴ ← وتیرہ ۲ (بیٹھ کر، ایک رکعت شمار)
۱۷ واجب + ۳۴ مستحب = ۵۱ رکعات
جمعہ اور سفر
جمعہ — ظہر اور عصر کی نوافل کی سولہ رکعات میں چار رکعات کا اضافہ ہو کر بیس رکعات ہو جاتی ہیں۔ بہتر ہے کہ یہ بیسوں رکعات زوال سے پہلے (ظہر کا وقت شروع ہونے سے پہلے) پڑھی جائیں۔
سفر — جب نماز قصر ہو تو ظہر اور عصر کی نوافل ساقط ہو جاتی ہیں، اور نافلۂ عشاء صرف رجاءِ ثواب کی نیت سے پڑھی جاتی ہے۔ نافلۂ مغرب، نمازِ شب اور نافلۂ فجر باقی رہتی ہیں۔
تمام نوافل بیٹھ کر پڑھی جا سکتی ہیں، مگر کھڑے ہو کر پڑھنا بہتر ہے۔ نافلہ میں اذان و اقامت نہیں ہوتی، اور سورۂ حمد کے بعد سورت پڑھنا واجب نہیں۔ اوپر دی گئی تعداد اور اوقات مراجعِ کرام کے مشہور فتاویٰ کے مطابق ہیں؛ اگر آپ کے مرجع کا فتویٰ مختلف ہو تو اسی پر عمل کریں۔