اذان و اقامت — شیعہ طریقہ — عربی متن مع اردو ترجمہ | سادات
Skip to content

اذان و اقامت — شیعہ طریقہ

اذان و اقامت

اذان و اقامت — شیعہ طریقہ، مکمل تفصیل کے ساتھ

اذان وہ ندا ہے جو نماز کا وقت داخل ہونے کا اعلان کرتی ہے، اور اقامت یہ اعلان ہے کہ اب نماز شروع ہونے والی ہے۔ شیعہ (جعفری) فقہ میں یہ دونوں پنج وقتہ واجب نمازوں سے پہلے مستحبِ مؤکد ہیں — چاہے نماز ادا ہو یا قضا، فرادیٰ ہو یا باجماعت، مرد پڑھے یا عورت۔ اقامت کی تاکید اذان سے بھی زیادہ ہے۔

اذان ۱۸ فصلوں (جملوں) پر مشتمل ہے اور اقامت ۱۷ فصلوں پر۔ نیچے ہر جملہ اتنی ہی بار لکھا گیا ہے جتنی بار وہ پڑھا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ اس کا تلفظ اور ترجمہ بھی دیا گیا ہے، تاکہ پورا طریقہ سطر بہ سطر سیکھا جا سکے۔

اذان و اقامت صحیح عربی میں، اسی ترتیب سے، اور قربتِ الٰہی کی نیت (قربۃً الی اللہ) کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں۔ کسی اور نماز کے لیے اذان و اقامت نہیں ہے — نہ نافلہ نمازوں کے لیے، نہ نمازِ آیات کے لیے؛ نمازِ عید کے لیے اذان کی جگہ تین مرتبہ «اَلصَّلاۃ» کہا جاتا ہے۔

اذان — ۱۸ فصلیں

اذان کھڑے ہو کر، رو بہ قبلہ، بلند آواز سے اور ہر جملے کے درمیان تھوڑا وقفہ (ترسّل) کرتے ہوئے کہی جاتی ہے۔ نیچے ہر سطر ایک مرتبہ کہی جاتی ہے؛ جہاں جملہ دو یا چار بار لکھا ہے وہ اتنی ہی بار پڑھا جاتا ہے۔

۱۔ تکبیر — چار مرتبہ

اَللّٰهُ أَكْبَرُ

اَللّٰهُ أَكْبَرُ

اَللّٰهُ أَكْبَرُ

اَللّٰهُ أَكْبَرُ

Allāhu Akbar

اللہ سب سے بڑا ہے۔

۲۔ شہادتِ توحید — دو مرتبہ

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ

Ash-hadu an lā ilāha illallāh

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

۳۔ شہادتِ رسالت — دو مرتبہ

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ

Ash-hadu anna Muḥammadan Rasūlullāh

میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔

شہادتِ رسالت کے بعد مستحب — دو مرتبہ (اذان و اقامت کا جزو نہیں)

أَشْهَدُ أَنَّ عَلِيًّا وَلِيُّ اللّٰهِ

أَشْهَدُ أَنَّ عَلِيًّا وَلِيُّ اللّٰهِ

Ash-hadu anna ʿAliyyan Waliyyullāh

میں گواہی دیتا ہوں کہ علیؑ اللہ کے ولی ہیں۔

امیر المومنین علیؑ کی ولایت کی گواہی اذان اور اقامت کی گنی ہوئی فصلوں میں شامل نہیں۔ یہ «اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہ» کے بعد قربت کی نیت سے، شیعوں کے شعار کے طور پر کہی جاتی ہے — تفصیل نیچے شہادتِ ثالثہ کے عنوان میں ہے۔

۴۔ نماز کی طرف بلاوا — دو مرتبہ

حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ

حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ

Ḥayya ʿalaṣ-Ṣalāh

آؤ نماز کی طرف۔

۵۔ فلاح کی طرف بلاوا — دو مرتبہ

حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ

حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ

Ḥayya ʿalal-Falāḥ

آؤ فلاح (کامیابی) کی طرف۔

۶۔ بہترین عمل کی طرف بلاوا — دو مرتبہ

حَيَّ عَلٰى خَيْرِ الْعَمَلِ

حَيَّ عَلٰى خَيْرِ الْعَمَلِ

Ḥayya ʿalā Khayril-ʿAmal

آؤ بہترین عمل کی طرف۔

۷۔ تکبیر — دو مرتبہ

اَللّٰهُ أَكْبَرُ

اَللّٰهُ أَكْبَرُ

Allāhu Akbar

اللہ سب سے بڑا ہے۔

۸۔ تہلیل — دو مرتبہ

لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ

لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ

Lā ilāha illallāh

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

۴ + ۲ + ۲ + ۲ + ۲ + ۲ + ۲ + ۲ = ۱۸ فصلیں

اقامت — ۱۷ فصلیں

اقامت اذان کے بعد کھڑے ہو کر، رو بہ قبلہ اور باوضو، اذان کی نسبت کچھ تیز اور آہستہ آواز میں (حَدر) کہی جاتی ہے۔ یہ اذان سے تین جگہ مختلف ہے: شروع کی تکبیر چار کی بجائے دو بار، «حَیَّ عَلٰی خَیْرِ الْعَمَل» کے بعد قَدْ قَامَتِ الصَّلاۃ دو بار کا اضافہ، اور آخر میں «لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ» صرف ایک بار۔

۱۔ تکبیر — دو مرتبہ

اَللّٰهُ أَكْبَرُ

اَللّٰهُ أَكْبَرُ

Allāhu Akbar

اللہ سب سے بڑا ہے۔

۲۔ شہادتِ توحید — دو مرتبہ

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ

Ash-hadu an lā ilāha illallāh

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

۳۔ شہادتِ رسالت — دو مرتبہ

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ

Ash-hadu anna Muḥammadan Rasūlullāh

میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔

شہادتِ رسالت کے بعد مستحب — دو مرتبہ (اذان و اقامت کا جزو نہیں)

أَشْهَدُ أَنَّ عَلِيًّا وَلِيُّ اللّٰهِ

أَشْهَدُ أَنَّ عَلِيًّا وَلِيُّ اللّٰهِ

Ash-hadu anna ʿAliyyan Waliyyullāh

میں گواہی دیتا ہوں کہ علیؑ اللہ کے ولی ہیں۔

امیر المومنین علیؑ کی ولایت کی گواہی اذان اور اقامت کی گنی ہوئی فصلوں میں شامل نہیں۔ یہ «اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہ» کے بعد قربت کی نیت سے، شیعوں کے شعار کے طور پر کہی جاتی ہے — تفصیل نیچے شہادتِ ثالثہ کے عنوان میں ہے۔

۴۔ نماز کی طرف بلاوا — دو مرتبہ

حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ

حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ

Ḥayya ʿalaṣ-Ṣalāh

آؤ نماز کی طرف۔

۵۔ فلاح کی طرف بلاوا — دو مرتبہ

حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ

حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ

Ḥayya ʿalal-Falāḥ

آؤ فلاح (کامیابی) کی طرف۔

۶۔ بہترین عمل کی طرف بلاوا — دو مرتبہ

حَيَّ عَلٰى خَيْرِ الْعَمَلِ

حَيَّ عَلٰى خَيْرِ الْعَمَلِ

Ḥayya ʿalā Khayril-ʿAmal

آؤ بہترین عمل کی طرف۔

۷۔ نماز قائم ہونے کا اعلان — دو مرتبہ

قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ

قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ

Qad qāmatiṣ-Ṣalāh

نماز قائم ہو چکی (بس شروع ہونے والی ہے)۔

۸۔ تکبیر — دو مرتبہ

اَللّٰهُ أَكْبَرُ

اَللّٰهُ أَكْبَرُ

Allāhu Akbar

اللہ سب سے بڑا ہے۔

۹۔ تہلیل — ایک مرتبہ

لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ

Lā ilāha illallāh

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

۲ + ۲ + ۲ + ۲ + ۲ + ۲ + ۲ + ۲ + ۱ = ۱۷ فصلیں

«حَیَّ عَلٰی خَیْرِ الْعَمَل»

جملہ حَيَّ عَلٰى خَيْرِ الْعَمَلِ — «آؤ بہترین عمل کی طرف» — اذان کا اصل حصہ ہے جو رسول اللہؐ نے سکھایا اور آپؐ کی پوری زندگی اور پہلے خلیفہ کے دور میں پڑھا جاتا رہا۔ اہلِ بیتؑ اور ان کے پیروکاروں نے اسے محفوظ رکھا، اور شیعہ فقہ میں یہ اذان اور اقامت دونوں کا واجب جزو ہے؛ اس کے بغیر اذان ناقص ہے۔

ائمہؑ کی روایات میں «خیر العمل» کی تفسیر خود نماز سے کی گئی ہے، اور امام سجادؑ کی ایک مشہور روایت میں اسے فاطمہؑ اور ان کی اولاد سے نیکی، یعنی اہلِ بیتؑ کی ولایت، بتایا گیا ہے۔

حوالہ: شیخ حرّ عاملی، وسائل الشیعہ، جلد ۵، ابوابِ اذان و اقامت، باب استحبابِ «حیّ علی خیر العمل»؛ شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، جلد ۱، بابِ اذان و اقامت۔

شہادتِ ثالثہ — «اَشْہَدُ اَنَّ عَلِیًّا وَّلِیُّ اللّٰہ»

تمام مراجعِ کرام کے نزدیک أَشْهَدُ أَنَّ عَلِيًّا وَلِيُّ اللّٰهِ اذان یا اقامت کا جزو نہیں ہے، اور اسے اس عقیدے سے نہیں پڑھنا چاہیے کہ یہ ان کی فصلوں میں سے ہے۔ البتہ «اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہ» کے بعد قربتِ الٰہی کی نیت سے اسے کہنا اچھا ہے، کیونکہ یہ دین کی ایک حقیقت کی گواہی ہے اور شیعوں کا امتیازی شعار بن چکی ہے۔

بعض لوگ اسے مکمل صورت میں أَشْهَدُ أَنَّ عَلِيًّا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيُّ اللّٰهِ («میں گواہی دیتا ہوں کہ علیؑ امیر المومنین، اللہ کے ولی ہیں») پڑھتے ہیں؛ اسی نیت کے ساتھ دونوں صورتیں درست ہیں۔

حوالہ: آیت اللہ سیستانی، توضیح المسائل، بابِ اذان و اقامت، مسئلہ ۹۱۹: «اَشْہَدُ اَنَّ عَلِیًّا وَّلِیُّ اللّٰہ اذان اور اقامت کا جزو نہیں ہے، لیکن بہتر ہے کہ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہ کے بعد قربت کی نیت سے کہا جائے۔» امام خمینی، آیت اللہ خوئی اور آیت اللہ خامنہ ای کا فتویٰ بھی یہی ہے۔

اذان و اقامت کے احکام

درج ذیل احکام مراجعِ کرام کے مشہور فتاویٰ، بالخصوص آیت اللہ سیستانی کی توضیح المسائل (بابِ اذان و اقامت، مسائل ۹۱۶ تا ۹۳۴) کے مطابق ہیں:

  1. کن نمازوں کے لیے — صرف پنج وقتہ واجب نمازوں کے لیے مستحب ہیں، ادا ہوں یا قضا۔ دوسری واجب نمازوں، مثلاً نمازِ آیات، کے لیے اذان و اقامت نہیں؛ نمازِ عید کے لیے رجاءِ ثواب کی نیت سے تین مرتبہ «اَلصَّلاۃ» کہا جاتا ہے۔

  2. نیت — قربت کی نیت سے پڑھی جائیں، دکھاوے یا محض عادت کے طور پر نہیں۔ اگر اذان نماز کے اعلان کے علاوہ کسی اور غرض سے (مثلاً صرف سنانے کے لیے) کہی جائے تو وہ نماز کی اذان شمار نہیں ہوگی۔

  3. ترتیب — جملے اسی ترتیب سے کہے جائیں۔ اگر بھول کر ترتیب ٹوٹ جائے تو جہاں سے ترتیب ٹوٹی وہاں سے دوبارہ پڑھیں۔

  4. صحیح عربی — الفاظ صحیح عربی میں ادا ہوں۔ ترجمہ، یا ایسا جملہ جس کا معنی بدل جائے، کافی نہیں۔

  5. موالات — جملوں کے درمیان، اذان اور اقامت کے درمیان، اور اقامت اور نماز کے درمیان اتنا لمبا فاصلہ نہ ہو کہ وہ ایک عمل نہ لگیں۔ اگر فاصلہ زیادہ ہو جائے تو اقامت (اور احتیاطِ مستحب کے طور پر اذان بھی) دوبارہ کہی جائے۔

  6. کھڑا ہونا اور وضو — اقامت کھڑے ہو کر اور باوضو کہی جائے؛ احتیاطِ مستحب یہ ہے کہ چلتے ہوئے یا بے وضو نہ کہی جائے۔ اذان کے لیے بھی یہ باتیں مستحب ہیں۔

  7. بات کرنا — اذان اور اقامت کے درمیان بات کرنا مکروہ ہے، اور «قَدْ قَامَتِ الصَّلاۃ» کہنے کے بعد نماز سے متعلق بات کے سوا کچھ نہ کہا جائے۔

  8. جماعت — جماعت کی نماز کے لیے اذان و اقامت ایک شخص (مؤذن) کہتا ہے؛ امام کے پیچھے نماز پڑھنے والے دوبارہ نہیں کہتے۔ جو شخص ایسی جماعت میں شامل ہو جس کی اذان و اقامت ہو چکی ہو، وہ دوبارہ نہیں کہتا۔

  9. دوسرے کی اذان سننا — اگر کوئی شخص دوسرے کی اذان و اقامت سنے اور لمبا فاصلہ نہ ہوا ہو تو، شرائط پوری ہونے کی صورت میں، اسی پر نماز پڑھ سکتا ہے۔

  10. خواتین — عورتوں کے لیے بھی اذان و اقامت مستحب ہیں؛ عورت آہستہ آواز میں کہہ سکتی ہے تاکہ نامحرم اس کی آواز نہ سنے۔

  11. مؤذن — مستحب ہے کہ مؤذن عادل اور امانت دار ہو، نماز کے اوقات کو خوب جانتا ہو، اور بلند اور خوش آواز سے اذان کہے۔

  12. نومولود — مستحب ہے کہ پیدائش کے دن بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے۔

اذان کب ساقط ہوتی ہے

بعض صورتوں میں نماز کی اذان ساقط ہو جاتی ہے اور صرف اقامت کہی جاتی ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب دو نمازیں بغیر فاصلے کے ملا کر پڑھی جائیں؛ اذان صرف پہلی نماز کے لیے کہی جاتی ہے:

  • جمعہ کے دن نمازِ عصر، جب وہ نمازِ جمعہ یا ظہر کے ساتھ ملا کر پڑھی جائے۔

  • عرفہ کے دن (۹ ذی الحجہ) نمازِ عصر، جب ظہر کے ساتھ ملا کر پڑھی جائے۔

  • عید الاضحیٰ کی رات نمازِ عشاء، اس شخص کے لیے جو مشعر الحرام (مزدلفہ) میں ہو۔

  • مستحاضہ عورت کی نمازِ عصر اور عشاء، جسے اپنی نمازیں ملا کر پڑھنی ہوں۔

  • اس شخص کی نمازِ عصر اور عشاء جو پیشاب یا پاخانہ روک نہ سکتا ہو اور اسے نمازیں ملا کر پڑھنی ہوں۔

عام قاعدہ یہ ہے کہ جب بھی ظہر و عصر یا مغرب و عشاء درمیان میں مستحب فاصلے یا نافلہ کے بغیر ملا کر پڑھی جائیں تو دوسری نماز کی اذان ساقط ہو جاتی ہے۔ اگر دونوں کے درمیان فاصلہ کیا جائے تو دوسری نماز کے لیے بھی اذان کہی جاتی ہے۔

مستحبات و آداب

اذان و اقامت کے لیے درج ذیل امور مستحب ہیں:

  • رو بہ قبلہ ہونا، ساکن کھڑے رہنا اور باوضو ہونا؛ اقامت کے لیے اس کی تاکید زیادہ ہے۔

  • اذان و اقامت کے دوران بات نہ کرنا اور ادھر ادھر حرکت نہ کرنا۔

  • اذان بلند اور خوش آواز سے کہنا (مرد اپنی انگلیاں کانوں میں یا ہاتھ کانوں کے پاس رکھ سکتا ہے)، اور اقامت نسبتاً آہستہ کہنا۔

  • اذان کے جملوں کے درمیان تھوڑا وقفہ کرنا (ترسّل) اور اقامت جلدی جلدی کہنا (حَدر)۔

  • اذان اور اقامت کے درمیان فاصلہ کرنا: ایک قدم چلنا، تھوڑی دیر بیٹھنا، ایک سجدہ کرنا، کوئی ذکر یا دعا پڑھنا، خاموش رہنا، یا دو رکعت نافلہ پڑھنا۔ مغرب میں یہ فاصلہ ایک قدم، مختصر خاموشی یا ذکر سے کیا جائے، لمبا بیٹھ کر نہیں۔

  • اذان سننے والے کے لیے: مؤذن کے ساتھ ساتھ ہر جملہ آہستہ دہرانا (حکایتِ اذان)، اور نبی کریمؐ کا نام سن کر صلوات پڑھنا۔

  • اذان کے لیے جو دعائیں روایت ہوئی ہیں انہیں پڑھنا، جو نیچے دی گئی ہیں۔

اذان کی دعائیں — حوالوں کے ساتھ

اذان سننے والے کے لیے، اور اذان و اقامت کے درمیانی وقت کے لیے، اہلِ بیتؑ سے درج ذیل دعائیں روایت ہوئی ہیں۔

۱۔ مؤذن کے ساتھ دہرانا (حکایتِ اذان)

اذان سننے والے کے لیے مستحب ہے کہ مؤذن جو جملہ کہے وہ اس کے ساتھ ساتھ آہستہ دہرائے۔ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: «جو شخص مؤذن کو سنے اور ویسا ہی کہے جیسا وہ کہتا ہے، اللہ اس کے لیے مؤذن جیسا ثواب لکھتا ہے۔» یہ بھی روایت ہے کہ اذان دہرانا رزق میں اضافے اور مغفرت کا سبب ہے۔

حوالہ: شیخ کلینی، الکافی، جلد ۳، کتاب الصلاۃ، باب القول عند سماع الاذان؛ وسائل الشیعہ، جلد ۵، ابوابِ اذان و اقامت، باب ۴۵۔

۲۔ شہادتین سن کر

جب مؤذن «اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ» اور «اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہ» کہے تو سننے والا کہے:

وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ، أَكْتَفِيْ بِهَا عَنْ كُلِّ مَنْ أَبٰى وَجَحَدَ، وَأُعِيْنُ بِهَا مَنْ أَقَرَّ وَشَهِدَ

Wa ana ash-hadu an lā ilāha illallāh, wa anna Muḥammadan Rasūlullāh; aktafī bihā ʿan kulli man abā wa jaḥad, wa uʿīnu bihā man aqarra wa shahid.

اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ اسی گواہی کے ذریعے میں ہر انکار کرنے والے اور جھٹلانے والے سے بے نیاز ہوں، اور اسی کے ذریعے ہر اقرار کرنے والے اور گواہی دینے والے کی مدد کرتا ہوں۔

امام صادقؑ: «جو شخص یہ تصدیق اور طلبِ ثواب کے ساتھ کہے، اسے انکار کرنے والوں اور اقرار کرنے والوں کی تعداد کے برابر اجر دیا جاتا ہے۔» — الکافی، جلد ۳، باب القول عند سماع الاذان؛ وسائل الشیعہ، جلد ۵، ابوابِ اذان و اقامت، باب ۴۵۔

۳۔ نبی کریمؐ کا نام سن کر صلوات

جب بھی رسول اللہؐ کا نام سنا جائے — اذان میں، اقامت میں، حتیٰ کہ خود نماز کے دوران — آپؐ اور آپؐ کی آل پر صلوات بھیجنا مستحب ہے:

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ

Allāhumma ṣalli ʿalā Muḥammadin wa Āli Muḥammad.

اے اللہ! محمدؐ اور آلِ محمدؑ پر رحمت نازل فرما۔

حوالہ: توضیح المسائل، نبی کریمؐ کا نام آنے پر صلوات کے استحباب کے مسائل (آیت اللہ سیستانی، مسئلہ ۱۱۳۶)؛ وسائل الشیعہ، ابوابِ ذکر، صلوات کے ابواب۔

۴۔ اذانِ فجر سن کر دعا

امام صادقؑ نے فرمایا: جو شخص اذانِ فجر سن کر یہ دعا پڑھے، اور اذانِ مغرب کے وقت بھی اسی طرح پڑھے، پھر اسی دن یا رات میں انتقال کر جائے تو وہ توبہ کرنے والا (تائب) مرے گا:

اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ بِإِقْبَالِ نَهَارِكَ، وَإِدْبَارِ لَيْلِكَ، وَحُضُوْرِ صَلَوَاتِكَ، وَأَصْوَاتِ دُعَاتِكَ، أَنْ تَتُوْبَ عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ

Allāhumma innī as’aluka bi-iqbāli nahārik, wa idbāri laylik, wa ḥuḍūri ṣalawātik, wa aṣwāti duʿātik, an tatūba ʿalayy, innaka Antat-Tawwābur-Raḥīm.

اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے دن کے آنے اور تیری رات کے جانے کے واسطے، تیری نمازوں کی حاضری اور تیری طرف بلانے والوں کی آوازوں کے واسطے، کہ تو میری توبہ قبول فرما؛ بے شک تو ہی توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔

حوالہ: الکافی، جلد ۳، کتاب الصلاۃ، باب القول عند سماع الاذان (حارث بن مغیرہ نصری کی روایت)؛ وسائل الشیعہ، جلد ۵، ابوابِ اذان و اقامت، باب ۴۳؛ مفاتیح الجنان، آدابِ اذان۔

۵۔ اذانِ مغرب سن کر دعا

اذانِ مغرب کے وقت یہی دعا رات اور دن کے الفاظ بدل کر پڑھی جاتی ہے:

اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ بِإِقْبَالِ لَيْلِكَ، وَإِدْبَارِ نَهَارِكَ، وَحُضُوْرِ صَلَوَاتِكَ، وَأَصْوَاتِ دُعَاتِكَ، أَنْ تَتُوْبَ عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ

Allāhumma innī as’aluka bi-iqbāli laylik, wa idbāri nahārik, wa ḥuḍūri ṣalawātik, wa aṣwāti duʿātik, an tatūba ʿalayy, innaka Antat-Tawwābur-Raḥīm.

اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری رات کے آنے اور تیرے دن کے جانے کے واسطے، تیری نمازوں کی حاضری اور تیری طرف بلانے والوں کی آوازوں کے واسطے، کہ تو میری توبہ قبول فرما؛ بے شک تو ہی توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔

حوالہ: پچھلی دعا کے مطابق — الکافی، جلد ۳؛ وسائل الشیعہ، جلد ۵، ابوابِ اذان و اقامت، باب ۴۳۔

۶۔ اذان کے بعد کی دعا

روایت ہے کہ جو شخص اذان سن کر یہ دعا پڑھے، اسے وہ عطا کیا جاتا ہے جو اس نے مانگا:

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ قَلْبِيْ بَارًّا، وَرِزْقِيْ دَارًّا، وَاجْعَلْ لِيْ عِنْدَ قَبْرِ نَبِيِّكَ قَرَارًا وَمُسْتَقَرًّا

Allāhumma-jʿal qalbī bārran, wa rizqī dārran, wa-jʿal lī ʿinda qabri Nabiyyika qarāran wa mustaqarrā.

اے اللہ! میرے دل کو نیک بنا دے، میرے رزق کو وافر کر دے، اور مجھے اپنے نبیؐ کی قبر کے پاس ٹھکانا اور مستقل جگہ عطا فرما۔

حوالہ: شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، جلد ۱، بابِ اذان و اقامت؛ وسائل الشیعہ، جلد ۵، ابوابِ اذان و اقامت، باب ۴۵؛ مفاتیح الجنان، آدابِ اذان و اقامت۔

۷۔ اذان اور اقامت کے درمیان سجدہ

امام صادقؑ نے فرمایا: جو شخص اذان اور اقامت کے درمیان سجدہ کرے اور اس میں یہ کہے، اللہ فرماتا ہے: «میرے فرشتو! میری عزت و جلال کی قسم، میں اس کی محبت اپنے مومن بندوں کے دلوں میں اور اس کی ہیبت منافقوں کے دلوں میں ڈال دوں گا۔»

رَبِّ سَجَدْتُ لَكَ خَاضِعًا خَاشِعًا ذَلِيْلًا

Rabbi sajadtu laka khāḍiʿan khāshiʿan dhalīlā.

میرے رب! میں نے تیرے سامنے عاجزی، خشوع اور انکساری کے ساتھ سجدہ کیا۔

حوالہ: وسائل الشیعہ، جلد ۵، ابوابِ اذان و اقامت، باب ۱۱ (اذان اور اقامت کے درمیان سجدے سے فاصلہ کرنے کا استحباب)؛ من لا یحضرہ الفقیہ، جلد ۱؛ مفاتیح الجنان، آدابِ اذان و اقامت۔

مآخذ

  • شیخ کلینی، الکافی، جلد ۳، کتاب الصلاۃ — اذان و اقامت کی ابتدا کے ابواب، اور «باب القول عند سماع الاذان»۔

  • شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، جلد ۱ — بابِ اذان و اقامت۔

  • شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، جلد ۲ — بابِ اذان و اقامت؛ اور مصباح المتہجد۔

  • شیخ حرّ عاملی، وسائل الشیعہ، جلد ۵ — ابوابِ اذان و اقامت (باب ۱۱، ۱۹، ۴۳، ۴۵ وغیرہ)۔

  • شیخ عباس قمی، مفاتیح الجنان — آدابِ اذان و اقامت (تعقیباتِ نماز کے حصے میں)۔

  • آیت اللہ سید علی سیستانی، توضیح المسائل — بابِ اذان و اقامت، مسائل ۹۱۶ تا ۹۳۴؛ اور منہاج الصالحین، جلد ۱۔

  • امام خمینی، تحریر الوسیلہ، جلد ۱ — الاذان و الاقامۃ۔

اذان و اقامت کے جملوں پر تمام شیعہ مراجع کا اتفاق ہے۔ اوپر دیے گئے احکام و آداب مشہور فتاویٰ کے مطابق ہیں؛ اگر آپ کے مرجع کا فتویٰ کسی جزئی مسئلے میں مختلف ہو تو اسی پر عمل کریں۔

کاؤنٹر، آڈیو اور آف لائن مطالعہ ایپ میں دستیاب ہے۔

سادات کو ساتھ رکھیں

مکمل تجربہ — آف لائن مطالعہ، آڈیو، یاد دہانیاں اور بک مارکس — ایپ میں ہے۔

جلد آ رہی ہےApp Storeجلد آ رہی ہےGoogle Play