سُورَةُ يسٓ
سورہ Yaseen
Yaseen · مکی · ۸۳ آیات
يٰس࢜ ١ۚ
۱یٰسۤ
وَالْقُرْاٰنِ الْحَكِيْمِ ٢ۙ
۲قرآن حکیم کی قسم
اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ ٣ۙ
۳آپ مرسلین میں سے ہیں
عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ٤ؕ
۴بالکل سیدھے راستے پر ہیں
تَنْزِيْلَ الْعَزِيْزِ الرَّحِيْمِ ٥ۙ
۵یہ قرآن خدائے عزیز و مہربان کا نازل کیا ہوا ہے
لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا͏ٓ اُنْذِرَ اٰبَا࢜و͏ٔ͏ُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ ٦
۶تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جس کے باپ دادا کو کسی پیغمبر کے ذریعہ نہیں ڈرایا گیا تو سب غافل ہی رہ گئے
لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰٓي اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُو͏ٔ͏ْمِنُوْنَ ٧
۷یقینا ان کی اکثریت پر ہمارا عذاب ثابت ہوگیا تو وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں
اِنَّا جَعَلْنَا فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِيَ اِلَي الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ ٨
۸ہم نے ان کی گردن میں طوق ڈال دیئے ہیں جو ان کی ٹھڈیوں تک پہنچے ہوئے ہیں اور وہ سر اٹھائے ہوئے ہیں
وَجَعَلْنَا مِنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ سَدًّا وَّمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَيْنٰهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ٩
۹اور ہم نے ایک دیوار ان کے سامنے اور ایک دیوار ان کے پیچھے بنادی ہے اور پھر انہیں عذاب سے ڈھانک دیا ہے کہ وہ کچھ دیکھنے کے قابل نہیں رہ گئے ہیں
وَسَوَا࢜ءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُو͏ٔ͏ْمِنُوْنَ ١٠
۱۰اور ان کے لئے سب برابر ہے آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں
اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَخَشِيَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَيْبِۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّاَجْرٍ كَرِيْمٍ ١١
۱۱آپ صرف ان لوگوں کو ڈراسکتے ہیں جو نصیحت کا اتباع کریں اور بغیر دیکھے ازغیب خدا سے ڈرتے رہیں ان ہی لوگوں کو آپ مغفرت اور باعزت اجر کی بشارت دے دیں
اِنَّا نَحْنُ نُحْيِ الْمَوْتٰي وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْؕؔ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ ١٢ࣖ
۱۲بیشک ہم ہی مفِدوں کو زندہ کرتے ہیں اور ان کے گزشتہ اعمال اور ان کے آثار کولکھتے جاتے ہیں اور ہم نے ہر شے کو ایک روشن امام میں جمع کردیا ہے
وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِۘ اِذْ جَا࢜ءَهَا الْمُرْسَلُوْنَ ١٣ۚ
۱۳اور پیغمبر آپ ان سے بطور مثال اس قریہ والوں کا تذکرہ کریں جن کے پاس ہمارے رسول آئے
اِذْ اَرْسَلْنَا͏ٓ اِلَيْهِمُ اثْنَيْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْٓا اِنَّا͏ٓ اِلَيْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ ١٤
۱۴اس طرح کہ ہم نے دو رسولوں کو بھیجا تو ان لوگوں نے جھٹلادیا تو ہم نے ان کی مدد کو تیسرا رسول بھی بھیجا اور سب نے مل کر اعلان کیا کہ ہم سب تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں
قَالُوْا مَا͏ٓ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَاۙ وَمَا͏ٓ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَيْءٍۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ ١٥
۱۵ان لوگوں نے کہا تم سب ہمارے ہی جیسے بشر ہو اور رحمٰن نے کسی شے کو نازل نہیں کیا ہے تم صرف جھوٹ بولتے ہو
قَالُوْا رَبُّنَا يَعْلَمُ اِنَّا͏ٓ اِلَيْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ ١٦
۱۶انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں
وَمَا عَلَيْنَا͏ٓ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ ١٧
۱۷اور ہماری ذمہ داری صرف واضح طور پر پیغام پہنچادینا ہے
قَالُوْٓا اِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْۚ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِيْمٌ ١٨
۱۸ان لوگوں نے کہا کہ ہمیں تم منحوس معلوم ہوتے ہو اگر اپنی باتوں سے باز نہ آؤ گے تو ہم سنگسار کردیں گے اور ہماری طرف سے تمہیں سخت سزا دی جائے گی
قَالُوْا طَا࢜ىِٕرُكُمْ مَّعَكُمْؕ اَىِٕنْ ذُكِّرْتُمْؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ ١٩
۱۹ان لوگوں نے جواب دیا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے کیا یہ یاد دہانی کوئی نحوست ہے حقیقت یہ ہے کہ تم زیادتی کرنے والے لوگ ہو
وَجَا࢜ءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ رَجُلٌ يَّسْعٰي قَالَ يٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِيْنَ ٢٠ۙ
۲۰اور شہر کے ایک سرے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے کہا کہ قوم والو مرسلین کا اتباع کرو
اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا يَسْـَٔلُكُمْ اَجْرًا وَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ ٢١
۲۱ان کا اتباع کرو جو تم سے کسی طرح کی اجرت کا سوال نہیں کرتے ہیں اور ہدایت یافتہ ہیں
وَمَا لِيَ لَا͏ٓ اَعْبُدُ الَّذِيْ فَطَرَنِيْ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ ٢٢
۲۲اور مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور تم سب اسی کی بارگاہ میں پلٹائے جاؤ گے
ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖٓ اٰلِهَةً اِنْ يُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّيْ شَفَاعَتُهُمْ شَيْـًٔا وَّلَا يُنْقِذُوْنِ ٢٣ۚ
۲۳کیا میں اس کے علاوہ دوسرے خدا اختیار کرلو ں جب کہ وہ مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو کسی کی سفارش کام آنے والی نہیں ہے اور نہ کوئی بچاسکتا ہے
اِنِّيْٓ اِذًا لَّفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ ٢٤
۲۴میں تو اس وقت کھلی ہوئی گمراہی میں ہوجاؤں گا
اِنِّيْٓ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِ ٢٥ؕ
۲۵میں تمہارے پروردگار پر ایمان لایا ہوں لہٰذا تم میری بات سنو
قِيْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَؕ قَالَ يٰلَيْتَ قَوْمِيْ يَعْلَمُوْنَ ٢٦ۙ
۲۶نتیجہ میں اس بندہ سے کہا گیا کہ جنّت میں داخل ہوجا تو اس نے کہا کہ اے کاش میری قوم کو بھی معلوم ہوتا
بِمَا غَفَرَ لِيْ رَبِّيْ وَجَعَلَنِيْ مِنَ الْمُكْرَمِيْنَ ٢٧
۲۷کہ میرے پروردگار نے کس طرح بخش دیا ہے اور مجھے باعزّت لوگوں میں قرار دیا ہے
وَمَا͏ٓ اَنْزَلْنَا عَلٰي قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَا࢜ءِ وَمَا كُنَّا مُنْزِلِيْنَ ٢٨
۲۸اور ہم نے اس کی قوم پر اس کے بعد نہ آسمان سے کوئی لشکر بھیجا ہے اور نہ ہم لشکر بھیجنے والے تھے
اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ ٢٩
۲۹وہ تو صرف ایک چنگھاڑ تھی جس کے بعد سب کا شعلہ حیات سرد پڑگیا
يٰحَسْرَةً عَلَي الْعِبَادِۚؔ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ ٣٠
۳۰کس قدر حسرتناک ہے ان بندوں کا حال کہ جب ان کے پاس کوئی رسول آتا ہے تو اس کا مذاق اُڑانے لگتے ہیں
اَلَمْ يَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَيْهِمْ لَا يَرْجِعُوْنَ ٣١ؕ
۳۱کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کردیا ہے جو اب ان کی طرف پلٹ کر آنے والی نہیں ہیں
وَاِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِيْعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُوْنَ ٣٢ࣖ
۳۲اور پھر سب ایک دن اکٹھا ہمارے پاس حاضر کئے جائیں گے
وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُۚۖ اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَاْكُلُوْنَ ٣٣
۳۳اور ان کے لئے ہماری ایک نشانی یہ مردہ زمین بھی ہے جسے ہم نے زندہ کیا ہے اور اس میں دانے نکالے ہیں جن میں سے یہ لوگ کھارہے ہیں
وَجَعَلْنَا فِيْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّاَعْنَابٍ وَّفَجَّرْنَا فِيْهَا مِنَ الْعُيُوْنِ ٣٤ۙ
۳۴اور اسی زمین میں اَخرمے اور انگور کے باغات پیدا کئے ہیں اور چشمے جاری کئے ہیں
لِيَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۙ وَمَا عَمِلَتْهُ اَيْدِيْهِمْؕ اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ ٣٥
۳۵تاکہ یہ اس کے پھل کھائیں حالانکہ یہ سب ان کے ہاتھوں کا عمل نہیں ہے پھر آخر یہ ہمارا شکریہ کیوں نہیں ادا کرتے ہیں
سُبْحٰنَ الَّذِيْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنۢ͏ْبِتُ الْاَرْضُ وَمِنْ اَنْفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُوْنَ ٣٦
۳۶پاک و بے نیاز ہے وہ خدا جس نے تمام جوڑوں کو پیدا کیا ہے ان چیزوں میں سے جنہیں زمین اگاتی ہے اور ان کے نفوس میں سے اور ان چیزوں میں سے جن کا انہیں علم بھی نہیں ہے
وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الَّيْلُۚۖ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَ ٣٧ۙ
۳۷اور ان کے لئے ایک نشانی رات ہے جس میں سے ہم کھینچ کر دن کو نکال لیتے ہیں تو یہ سب اندھیرے میں چلے جاتے ہیں
وَالشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَاؕ ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ ٣٨ؕ
۳۸اور آفتاب اپنے ایک مرکز پر دوڑ رہا ہے کہ یہ خدائے عزیز و علیم کی معین کی ہوئی حرکت ہے
وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰي عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِيْمِ ٣٩
۳۹اور چاند کے لئے بھی ہم نے منزلیں معین کردی ہیں یہاں تک کہ وہ آخر میں پلٹ کر کھجور کی سوکھی ٹہنی جیسا ہوجاتا ہے
لَا الشَّمْسُ يَنۢ͏ْبَغِيْ لَهَا͏ٓ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِؕ وَكُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ ٤٠
۴۰نہ آفتاب کے بس میں ہے کہ چاند کو پکڑ لے اور نہ رات کے لئے ممکن ہے کہ وہ دن سے آگے بڑھ جائے .... اور یہ سب کے سب اپنے اپنے فلک اور مدار میں تیرتے رہتے ہیں
وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ ٤١ۙ
۴۱اور ان کے لئے ہماری ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کے بزرگوں کو ایک بھری ہوئی کشتی میں اٹھایا ہے
وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا يَرْكَبُوْنَ ٤٢
۴۲اور اس کشتی جیسی اور بہت سی چیزیں پیدا کی ہیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں
وَاِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِيْخَ لَهُمْ وَلَا هُمْ يُنْقَذُوْنَ ٤٣ۙ
۴۳اور اگر ہم چاہیں تو سب کو غرق کردیں پھر نہ کوئی ان کافریاد رس پیدا ہوگا اور نہ یہ بچائے جاسکیں گے
اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَمَتَاعًا اِلٰي حِيْنٍ ٤٤
۴۴مگر یہ کہ خود ہماری رحمت شامل حال ہوجائے اور ہم ایک مدّت تک آرام کرنے دیں
وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَيْنَ اَيْدِيْكُمْ وَمَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ٤٥
۴۵اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس عذاب سے ڈرو جو سامنے یا پیچھے سے آسکتا ہے شاید کہ تم پر رحم کیا جائے
وَمَا تَاْتِيْهِمْ مِّنْ اٰيَةٍ مِّنْ اٰيٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِيْنَ ٤٦
۴۶تو ان کے پاس خدا کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی نہیں آتی ہے مگر یہ کہ یہ کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں
وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُۙ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ يَشَا࢜ءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗٓࣗۖ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ ٤٧
۴۷اور جب کہا جاتا ہے کہ جو رزق خدا نے دیا ہے اس میں سے اس کی راہ میں خرچ کرو تو یہ کفّار صاحبانِ ایمان سے طنزیہ طور پر کہتے ہیں کہ ہم انہیں کیوں کھلائیں جنہیں خدا چاہتا تو خود ہی کھلادیتا تم لوگ تو کِھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہو
وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰي هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ٤٨
۴۸اور پھر کہتے ہیں کہ آخر یہ وعدہ قیامت کب پورا ہوگا اگر تم لوگ اپنے وعدہ میں سچّے ہو
مَا يَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَهُمْ يَخِصِّمُوْنَ ٤٩
۴۹درحقیقت یہ صرف ایک چنگھاڑ کا انتظار کررہے ہیں جو انہیں اپنی گرفت میں لے لے گی اور یہ جھگڑا ہی کرتے رہ جائیں گے
فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ تَوْصِيَةً وَّلَا͏ٓ اِلٰٓي اَهْلِهِمْ يَرْجِعُوْنَ ٥٠ࣖ
۵۰پھر نہ کوئی وصیّت کر پائیں گے اور نہ اپنے اہل کی طرف پلٹ کر ہی جاسکیں گے
وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰي رَبِّهِمْ يَنْسِلُوْنَ ٥١
۵۱اور پھر جب صور پھونکا جائے گا تو سب کے سب اپنی قبروں سے نکل کر اپنے پروردگار کی طرف چل کھڑے ہوں گے
قَالُوْا يٰوَيْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَاۘࣝؔ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ ٥٢
۵۲کہیں گے کہ آخر یہ ہمیں ہماری خواب گاہ سے کس نے اٹھادیا ہے .... بیشک یہی وہ چیز ہے جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا اور اس کے رسولوں نے سچ کہا تھا
اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِيْعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُوْنَ ٥٣
۵۳قیامت تو صرف ایک چنگھاڑ ہے اس کے بعد سب ہماری بارگاہ میں حاضر کردیئے جائیں گے
فَالْيَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْـًٔا وَّلَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ٥٤
۵۴پھر آج کے دن کسی نفس پر کسی طرح کا ظلم نہیں کیا جائے گا اور تم کو صرف ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے اعمال تم کررہے تھے
اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِيْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَ ٥٥ۚ
۵۵بیشک اہل جنّت آج کے دن طرح طرح کے مشاغل میں مزے کررہے ہوں گے
هُمْ وَاَزْوَاجُهُمْ فِيْ ظِلٰلٍ عَلَي الْاَرَا࢜ىِٕكِ مُتَّكِـُٔوْنَ ٥٦
۵۶وہ اور ان کی بیویاں سب جنّت کی چھاؤں میں تخت پر تکیئے لگائے آرام کررہے ہوں گے
لَهُمْ فِيْهَا فَاكِهَةٌ وَّلَهُمْ مَّا يَدَّعُوْنَ ٥٧ۚۖ
۵۷ان کے لئے تازہ تازہ میوے ہوں گے اور اس کے علاوہ جو کچھ بھی وہ چاہیں گے
سَلٰمٌࣞ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ ٥٨
۵۸ان کے حق میں ان کے مہربان پروردگار کا قول صرف سلامتی ہوگا
وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ ٥٩
۵۹اور اے مجرمو تم ذرا ان سے الگ تو ہوجاؤ
اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ ٦٠ۙ
۶۰اولاد آدم کیا ہم نے تم سے اس بات کا عہد نہیں لیا تھا کہ خبردار شیطان کی عبادت نہ کرنا کہ وہ تمہارا کِھلا ہوا دشمن ہے
وَّاَنِ اعْبُدُوْنِيْؕؔ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ ٦١
۶۱اور میری عبادت کرنا کہ یہی صراط مستقیم اور سیدھا راستہ ہے
وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيْرًاؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ ٦٢
۶۲اس شیطان نے تم میں سے بہت سی نسلوں کو گمراہ کردیا ہے تو کیا تم بھی عقل استعمال نہیں کرو گے
هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ٦٣
۶۳یہی وہ جہّنم ہے جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا جارہا تھا
اِصْلَوْهَا الْيَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ ٦٤
۶۴آج اسی میں چلے جاؤ کہ تم ہمیشہ کفر اختیار کیا کرتے تھے
اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓي اَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا͏ٓ اَيْدِيْهِمْ وَتَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ ٦٥
۶۵آج ہم ان کے منہ پرلَہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ بولیں گے اوران کے پاؤں گواہی دیں گے کہ یہ کیسے اعمال انجام دیا کرتے تھے
وَلَوْ نَشَا࢜ءُ لَطَمَسْنَا عَلٰٓي اَعْيُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰي يُبْصِرُوْنَ ٦٦
۶۶اور ہم اگر چاہیں تو ان کی آنکھوں کو مٹا دیں پھر یہ راستہ کی طرف قدم بڑھاتے رہیں لیکن کہاں دیکھ سکتے ہیں
وَلَوْ نَشَا࢜ءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰي مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِيًّا وَّلَا يَرْجِعُوْنَ ٦٧ࣖ
۶۷اور ہم چاہیں تو خود ان ہی کو بالکل مسخ کردیں جس کے بعد نہ آگے قدم بڑھاسکیں اور نہ پیچھے ہی پلٹ کر واپس آسکیں
وَمَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِؕ اَفَلَا يَعْقِلُوْنَ ٦٨
۶۸اور ہم جسے طویل عمر دیتے ہیں اسے خلقت میں بچپنے کی طرف واپس کر دیتے ہیں کیا یہ لوگ سمجھتے نہیں ہیں
وَمَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنۢ͏ْبَغِيْ لَهٗؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّقُرْاٰنٌ مُّبِيْنٌ ٦٩ۙ
۶۹اور ہم نے اپنے پیغمبر کو شعر کی تعلیم نہیں دی ہے اور نہ شاعری اس کے شایان شان ہے یہ تو ایک نصیحت اور کِھلا ہوا روشن قرآن ہے
لِّيُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَيًّا وَّيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ ٧٠
۷۰تاکہ اس کے ذریعہ زندہ افراد کو عذاب الہٰی سے ڈرائیں اور کفاّر پر حجّت تمام ہوجائے
اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَيْدِيْنَا͏ٓ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ ٧١
۷۱کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے فائدے کے لئے اپنے دست قدرت سے چوپائے پیدا کردیئے ہیں تو اب یہ ان کے مالک کہے جاتے ہیں
وَذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَمِنْهَا يَاْكُلُوْنَ ٧٢
۷۲اور پھر ہم نے ان جانوروں کو رام کردیا ہے تو بعض سے سواری کا کام لیتے ہیں اور بعض کو کھاتے ہیں
وَلَهُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُؕ اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ ٧٣
۷۳اور ان کے لئے ان جانوروں میں بہت سے فوائد ہیں اور پینے کی چیزیں بھی ہیں تو یہ شکر خدا کیوں نہیں کرتے ہیں
وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ يُنْصَرُوْنَ ٧٤ؕ
۷۴اور ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر دوسرے خدا بنالئے ہیں کہ شائد ان کی مدد کی جائے گی
لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَهُمْۙ وَهُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ ٧٥
۷۵حالانکہ یہ ان کی مدد کی طاقت نہیں رکھتے ہیں اور یہ ان کے ایسے لشکر ہیں جنہیں خود بھی خدا کی بارگاہ میں حاضر کیا جائے گا
فَلَا يَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ٧٦
۷۶لہٰذا پیغمبر آپ ان کی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں ہم وہ بھی جانتے ہیں جو یہ چھپا رہے ہیں اور وہ بھی جانتے ہیں جس کا یہ اظہار کررہے ہیں
اَوَلَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ ٧٧
۷۷تو کیا انسان نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا ہے اور وہ یکبارگی ہمارا کھلا ہوا دشمن ہوگیا ہے
وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗؕ قَالَ مَنْ يُّحْيِ الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيْمٌ ٧٨
۷۸اور ہمارے لئے مثل بیان کرتا ہے اور اپنی خلقت کو بھول گیا ہے کہتا ہے کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرسکتا ہے
قُلْ يُحْيِيْهَا الَّذِيْٓ اَنْشَاَهَا͏ٓ اَوَّلَ مَرَّةٍؕ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيْمُ ٧٩ۙ
۷۹آپ کہہ دیجئے کہ جس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے وہی زندہ بھی کرے گا اور وہ ہر مخلوق کا بہتر جاننے والا ہے
اࣙلَّذِيْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَا͏ٓ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ ٨٠
۸۰اس نے تمہارے لئے ہرے درخت سے آگ پیدا کردی ہے تو تم اس سے ساری آگ روشن کرتے رہے ہو
اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْؕؔ بَلٰيࣗ وَهُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِيْمُ ٨١
۸۱تو کیا جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ ان کا مثل دوباہ پیدا کردے یقینا ہے اور وہ بہترین پیدا کرنے والا اور جاننے والا ہے
اِنَّمَا͏ٓ اَمْرُهٗٓ اِذَا͏ٓ اَرَادَ شَيْـًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ ٨٢
۸۲اس کا امر صرف یہ ہے کہ کسی شے کے بارے میں یہ کہنے کا ارادہ کرلے کہ ہوجا اور وہ شے ہوجاتی ہے
فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ ٨٣ࣖ
۸۳پس پاک و بے نیاز ہے وہ خدا جس کے ہاتھوں میں ہر شے کا اقتدار ہے اور تم سب اسی کی بارگاہ میں پلٹا کر لے جائے جاؤ گے